شعلے فلم کا حقیقت میں الٹا منظر، ویرو سے شادی کے لیے بسنتی ہائی وولٹیج ٹاور پر چڑھ گئی

Facebook
WhatsApp
Twitter
LinkedIn

میرٹھ، بھارت (دسمبر 2025):
بھارتی فلمی تاریخ کی شہرۂ آفاق فلم شعلے کا ایک یادگار منظر حال ہی میں حقیقی زندگی میں اس وقت دیکھنے کو ملا جب ایک نوجوان لڑکی نے اپنی محبت کو شادی پر آمادہ کرنے کے لیے انتہائی خطرناک قدم اٹھا لیا۔ یہ واقعہ اگرچہ فلم شعلے سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم یہاں کہانی بالکل الٹ نظر آئی، جہاں ویرو کے بجائے بسنتی نے اپنی محبت ثابت کرنے کے لیے جان جوکھوں میں ڈال دی۔

بھارتی فلم شعلے کو ریلیز ہوئے تقریباً پانچ دہائیاں گزر چکی ہیں، مگر اس کے کردار اور مناظر آج بھی عوام کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ فلم میں دکھایا گیا تھا کہ ویرو اپنی محبوبہ بسنتی سے شادی کے لیے ایک بلند پانی کی ٹنکی پر چڑھ کر ہنگامہ برپا کر دیتا ہے، جس کے بعد حالات اس کے حق میں جاتے ہیں۔
حالیہ واقعے میں یہ منظر حقیقی زندگی میں دہرایا گیا، مگر کردار بدل گئے۔ اس بار ویرو کے بجائے بسنتی نے اپنی محبت کے اظہار اور شادی کے مطالبے کے لیے بجلی کے ہائی وولٹیج تاروں والے ٹاور پر چڑھنے کا انتہائی خطرناک فیصلہ کیا۔

ذرائع کے مطابق یہ واقعہ بھارت کے شہر میرٹھ میں پیش آیا، جہاں بسنتی نامی ایک نوجوان لڑکی اچانک ایک ہائی وولٹیج بجلی کے ٹاور پر چڑھ گئی۔ مقامی افراد کے مطابق لڑکی نے یہ قدم اس وقت اٹھایا جب اس کی محبت ویرو نامی نوجوان سے شادی کے معاملے پر اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق بسنتی نے ٹاور پر چڑھتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر اس کی شادی ویرو سے نہ کرائی گئی تو وہ نیچے نہیں اترے گی۔ اس صورتحال نے علاقے میں سنسنی پھیلا دی اور دیکھتے ہی دیکھتے موقع پر لوگوں کا ہجوم جمع ہو گیا۔

اطلاع ملنے پر پولیس اور متعلقہ ریسکیو ادارے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ پولیس حکام کے مطابق صورتحال انتہائی حساس تھی کیونکہ ٹاور پر ہائی وولٹیج بجلی کے تار موجود تھے، جو کسی بھی لمحے جان لیوا ثابت ہو سکتے تھے۔
ریسکیو ٹیموں نے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے بجلی کی فراہمی کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور لڑکی کو بحفاظت نیچے اتارنے کی کوششیں شروع کر دیں۔

ذرئع کے مطابق جب پولیس نے بسنتی کو نیچے اترنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تو اس نے واضح طور پر کہا کہ وہ صرف ایک شرط پر ٹاور سے نیچے آئے گی، اور وہ شرط ویرو سے شادی تھی۔ لڑکی نے یہ بھی کہا کہ اگر اس کی بات نہ مانی گئی تو وہ اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

اس دوران پولیس نے معاملے کو سنبھالنے کے لیے تحمل اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔ حکام نے لڑکی سے بات چیت جاری رکھی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

واقعے کی خبر پھیلتے ہی یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی زیرِ بحث آ گیا۔ کئی صارفین نے اس واقعے کو فلم شعلے کے منظر سے تشبیہ دی، جبکہ بعض نے اس خطرناک عمل پر تشویش کا اظہار کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات اگرچہ فوری توجہ حاصل کر لیتے ہیں، مگر یہ نہایت خطرناک بھی ہوتے ہیں اور ان سے جان کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق اس طرح کے واقعات کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے کیونکہ یہ نہ صرف متعلقہ فرد بلکہ دیگر افراد کے لیے بھی خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔ حکام نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کے جذباتی دباؤ یا خطرناک اقدام کے بجائے قانونی اور سماجی ذرائع سے مسائل کا حل نکالا جانا چاہیے۔

سماجی ماہرین کے مطابق اس طرح کے واقعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ بعض نوجوان جذباتی دباؤ کے تحت انتہائی اقدامات کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشرے میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان کسی بھی مسئلے کا حل خطرناک راستوں کے بجائے مکالمے اور قانونی طریقوں سے تلاش کریں۔

تاحال حکام کی جانب سے اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ بسنتی کو کس طرح اور کن شرائط کے تحت ٹاور سے نیچے اتارا گیا، تاہم ذرائع کے مطابق پولیس کی مسلسل بات چیت اور ریسکیو حکمت عملی کے باعث صورتحال پر قابو پا لیا گیا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

میرٹھ میں پیش آنے والا یہ واقعہ اگرچہ فلمی منظر سے مماثلت رکھتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک سنجیدہ اور خطرناک صورتحال تھی۔ یہ واقعہ اس امر کی یاد دہانی ہے کہ جذباتی فیصلے بعض اوقات جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین اور حکام دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ محبت، شادی اور سماجی مسائل کا حل مکالمے، مشاورت اور قانونی دائرے میں رہ کر ہی نکالا جانا چاہیے، تاکہ کسی کی جان خطرے میں نہ پڑے۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے