پاکستان کی معروف ماڈل و اداکارہ ثنا جاوید کی جانب سے انسٹاگرام پر ایک صارف کو دیا گیا مختصر مگر غیر معمولی جواب حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر خاصی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب اداکارہ نے اپنے دبئی کے سفر سے چند تصاویر شیئر کیں اور کمنٹس سیکشن میں ہونے والی ایک گفتگو نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک وسیع بحث کی شکل اختیار کر لی۔
ذرائع کے مطابق ثنا جاوید نے فوٹوز اور ویڈیوز شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر دبئی میں گزارے گئے لمحات کی چند تصاویر شائع کیں۔
ان تصاویر میں انہیں ایک کیفے میں ناشتہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
تصاویر عام نوعیت کی تھیں اور بظاہر کسی متنازع پہلو کی حامل نہیں تھیں، تاہم سوشل میڈیا پر عوامی شخصیات کی ہر پوسٹ کی طرح ان تصاویر پر بھی صارفین کی جانب سے مختلف تبصرے کیے گئے۔
رپورٹس کے مطابق ایک صارف نے ثنا جاوید کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’مجھے یہ فوٹوگرافر چاہیے‘‘۔
اس تبصرے کے جواب میں اداکارہ نے لکھا کہ ’’میں اپنا میاں کسی کو نہیں دے سکتی‘‘۔
یہ جواب بظاہر مزاحیہ یا غیر رسمی انداز میں دیا گیا، تاہم سوشل میڈیا پر موجود صارفین نے اسے مختلف زاویوں سے دیکھا، جس کے بعد یہ ایک عام گفتگو سے بڑھ کر ایک بحث کا موضوع بن گیا۔
اداکارہ کے اس جواب کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد نے مختلف آرا کا اظہار کیا۔
بعض صارفین نے اسے غیر ضروری یا نامناسب قرار دیا، جبکہ کچھ حلقوں کا کہنا تھا کہ عوامی شخصیات کو اس طرح کے جوابات دیتے وقت محتاط رہنا چاہیے کیونکہ ان کے الفاظ کو وسیع تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق کئی صارفین نے تبصروں میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ سوشل میڈیا ایک عوامی پلیٹ فارم ہے اور یہاں دیے گئے بیانات اکثر سیاق و سباق سے ہٹ کر بھی زیرِ بحث آ جاتے ہیں، جس سے غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق شوبز سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو سوشل میڈیا پر نہ صرف مداحوں بلکہ ناقدین کا بھی سامنا رہتا ہے۔
ان کے ہر بیان، تصویر یا جواب کو باریک بینی سے دیکھا جاتا ہے اور بعض اوقات ایک سادہ سا جملہ بھی غیر متوقع ردِعمل کا باعث بن جاتا ہے۔
سماجی مبصرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے کو آسان بنا دیا ہے، مگر اس کے ساتھ ہی عوامی شخصیات پر اضافی ذمہ داری بھی عائد ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے الفاظ کے ممکنہ اثرات کو مدنظر رکھیں۔
تاحال ثنا جاوید کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ وضاحت یا وضاحتی بیان سامنے نہیں آیا۔
اداکارہ نے نہ تو تنقید کا براہِ راست جواب دیا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے مزید کوئی تبصرہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بعض اوقات عوامی شخصیات دانستہ طور پر ایسے معاملات پر خاموشی اختیار کرتی ہیں تاکہ بحث کو مزید ہوا نہ ملے اور معاملہ وقت کے ساتھ خود ہی ختم ہو جائے۔
ڈیجیٹل ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر مزاح اور سنجیدگی کے درمیان حد بعض اوقات دھندلا جاتی ہے۔
جو بات ایک فرد کے نزدیک ہلکے پھلکے انداز میں کہی جاتی ہے، وہ دوسرے کے لیے ناگوار ہو سکتی ہے۔
اسی لیے عوامی سطح پر پہچانی جانے والی شخصیات کے لیے یہ ضروری سمجھا جاتا ہے کہ وہ اپنے ردِعمل میں توازن اور احتیاط کا مظاہرہ کریں۔
شوبز انڈسٹری سے وابستہ کئی فنکار ماضی میں بھی سوشل میڈیا پر دیے گئے بیانات یا جوابات کے باعث تنقید کی زد میں آ چکے ہیں۔
بعض مواقع پر یہ تنقید وقتی ثابت ہوئی، جبکہ کچھ معاملات میں فنکاروں کو وضاحت دینا پڑی۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کے واقعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا نے نہ صرف شہرت کو تیز کیا ہے بلکہ تنقید کی رفتار بھی بڑھا دی ہے۔
ثنا جاوید کے انسٹاگرام جواب پر ہونے والی حالیہ بحث ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ سوشل میڈیا پر دیے گئے چند الفاظ بھی بڑے پیمانے پر زیرِ بحث آ سکتے ہیں۔
اگرچہ اداکارہ کا جواب ایک عام تبصرے کے ردِعمل میں دیا گیا، تاہم اس پر سامنے آنے والی تنقید نے عوامی شخصیات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے باہمی تعلق پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ماہرین اور مبصرین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں اظہارِ رائے کے ساتھ ساتھ ذمہ داری اور احتیاط بھی ناگزیر ہے، تاکہ غیر ضروری تنازعات اور غلط فہمیوں سے بچا جا سکے۔



