چین میں نوجوان نے زیادہ کھانا کھانے پر منگیتر سے منگنی توڑ دی، تحائف کی واپسی کے لیے عدالت سے رجوع

Facebook
WhatsApp
Twitter
LinkedIn

چین میں ایک انوکھا مگر قانونی نوعیت کا مقدمہ سامنے آیا ہے جہاں ایک نوجوان نے اپنی منگیتر کے ساتھ منگنی ختم کرنے کے بعد عدالت سے رجوع کرتے ہوئے منگنی میں دی گئی رقم اور تعلق کے دوران کیے گئے اخراجات کی واپسی کا مطالبہ کیا۔

ذرائع کے مطابق یہ واقعہ چین کے صوبے ہیلونگ جیانگ میں پیش آیا جہاں نوجوان نے مؤقف اختیار کیا کہ منگنی کے بعد وہ اور اس کی منگیتر شمالی چین کے صوبے ہیبی منتقل ہوئے اور خاندانی اسٹریٹ فوڈ ریستوران میں ساتھ کام کرنے لگے۔

تاہم اسی دوران منگیتر کے رویے اور زیادہ کھانا کھانے کی عادت کے باعث کاروبار متاثر ہوا جس سے باہمی اختلافات بڑھتے گئے اور بالآخر منگنی ختم ہو گئی۔

بعدازاں نوجوان نے عدالت میں 20 ہزار یوان کی منگنی کی رقم اور مزید 30 ہزار یوان کے اخراجات کی واپسی کی درخواست دی۔

دوسری جانب منگیتر نے مؤقف اپنایا کہ وہ اس کی گرل فرینڈ تھی، ملازمہ نہیں، اور ذاتی تعلق کے دوران دیے گئے تحائف واپس نہیں لیے جاتے۔

عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ دیا کہ چونکہ شادی نہیں ہوئی تھی اس لیے منگنی کی رقم کا نصف حصہ واپس کیا جائے، تاہم ذاتی نوعیت کے اخراجات کی واپسی کا مطالبہ درست نہیں، یوں عدالت نے فریقین کے درمیان متوازن فیصلہ سنا دیا۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے