پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے بھارت کے ساتھ کرکٹ اور انتظامی سطح پر تعلقات کے حوالے سے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی معاملے میں برابری کے اصول سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارتی حکام یا ٹیمیں رسمی مصافحے جیسے رویوں سے گریز کرتی ہیں تو پاکستان بھی ایسی کسی نمائش کا خواہش مند نہیں۔ لاہور میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بھارت سے متعلق امور کے ساتھ ساتھ پاکستان سپر لیگ، کرکٹ اکیڈمیز اور مستقبل کے بین الاقوامی شیڈول پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ برابری اور احترام کے اصول پر یقین رکھتا ہے اور کھیل کے میدان میں کسی بھی قسم کی فوقیت یا کمتر رویہ قابل قبول نہیں۔ ان کے مطابق اگر بھارت کی جانب سے رسمی مصافحے یا دیگر علامتی اقدامات سے اجتناب کیا جاتا ہے تو پاکستان کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم اصل توجہ کھیل، اس کے قوانین اور کھیل کے وقار پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کرکٹ کو سیاسی یا غیرضروری رویوں سے دور رکھنا ہی کھیل کے مفاد میں ہے۔
چیئرمین پی سی بی نے بھارتی انڈر 19 ٹیم کے رویے سے متعلق سوال پر بتایا کہ اس معاملے پر بین الاقوامی کرکٹ کونسل کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں سامنے آیا ہے کہ حالیہ مقابلوں کے دوران بھارتی ٹیم کے بعض رویوں پر تحفظات پیدا ہوئے ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس حوالے سے آئی سی سی کو تحریری طور پر آگاہ کر رہا ہے تاکہ معاملے کی غیرجانبدارانہ جانچ ہو سکے اور مستقبل میں ایسے مسائل کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
پریس کانفرنس کے دوران پاکستان سپر لیگ سے متعلق بھی متعدد اہم فیصلوں سے آگاہ کیا گیا۔ محسن نقوی نے بتایا کہ سابق عالمی شہرت یافتہ کرکٹر وسیم اکرم کو پاکستان سپر لیگ کا برانڈ ایمبیسیڈر مقرر کیا گیا ہے، جس کا مقصد لیگ کی بین الاقوامی سطح پر تشہیر اور اس کی ساکھ کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وسیم اکرم کا تجربہ اور عالمی پہچان پی ایس ایل کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان سپر لیگ کے آغاز کی تاریخ پر بھی غور کیا جا رہا ہے اور 26 مارچ کے بجائے 23 مارچ سے لیگ شروع کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ ان کے مطابق اس حوالے سے تمام فرنچائزز سے مشاورت جاری ہے اور حتمی فیصلہ اتفاقِ رائے سے کیا جائے گا تاکہ لیگ کے انتظامی اور تجارتی معاملات بہتر انداز میں چلائے جا سکیں۔
محسن نقوی نے مزید بتایا کہ پی ایس ایل کے اختتام کے بعد ملتان سلطانز کی نیلامی کی جائے گی۔ ان کے مطابق موجودہ سیزن میں ملتان سلطانز کو پاکستان کرکٹ بورڈ خود آپریٹ کرے گا تاکہ انتظامی اور مالی معاملات کو مؤثر طریقے سے سنبھالا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد لیگ کے مجموعی معیار اور شفافیت کو مزید بہتر بنانا ہے۔
چیئرمین پی سی بی کے مطابق پاکستان سپر لیگ میں دو نئی ٹیموں کے اضافے کے عمل میں دس پارٹیوں نے کوالیفائی کیا ہے، جب کہ ان ٹیموں کی بڈنگ 8 جنوری کو اسلام آباد میں منعقد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مرحلہ پی ایس ایل کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے اور اس سے لیگ کے دائرہ کار میں مزید وسعت آئے گی۔
محسن نقوی نے کہا کہ جنوری کا مہینہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے اور توقع ہے کہ پی ایس ایل کی ٹیمیں اچھی قیمت پر فروخت ہوں گی، جس سے بورڈ کے مالی استحکام میں مدد ملے گی۔ انہوں نے میڈیا سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر اطلاعات سے درخواست کریں گے کہ نیوز چینلز اسپورٹس ایونٹس کی بھرپور کوریج کو یقینی بنائیں تاکہ کھیل کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے کرکٹ اکیڈمی کے حوالے سے بھی اپنے اہداف بیان کرتے ہوئے کہا کہ اکیڈمی کو خطے کی بہترین کرکٹ اکیڈمی بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جہاں جدید سہولیات اور معیاری کوچنگ فراہم کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان شاہینز ٹیم کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا تاکہ یہ ٹیم مستقبل میں قومی ٹیم کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کر سکے۔
چیئرمین پی سی بی نے بتایا کہ ریڈ بال کرکٹ کے کوچ کے تقرر سے متعلق فیصلہ تاحال نہیں ہو سکا، تاہم اس معاملے پر کام جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز کے لیے اب تک صرف تین ٹی ٹوئنٹی میچز شیڈول کیے گئے ہیں اور آئندہ دنوں میں اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آ سکتی ہیں۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر محسن نقوی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کرکٹ کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے گا اور تمام فیصلے شفافیت، میرٹ اور برابری کے اصول کے تحت کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت سے تعلقات ہوں یا پاکستان سپر لیگ کی توسیع، پاکستان کرکٹ بورڈ کھیل کے مفاد اور قومی وقار کو ہر صورت مقدم رکھے گا۔



