کن کتّوں کو اب تاحیات ’’جیل‘‘ ہوگی؟

Facebook
WhatsApp
Twitter
LinkedIn

بھارت میں آوارہ کتوں کے حملوں پر کانپور میونسپل کارپوریشن کا نیا منصوبہ

بھارت (23 دسمبر 2025):
بھارت میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر اترپردیش کے شہر کانپور میں میونسپل کارپوریشن نے عوامی تحفظ کے لیے ایک نیا اور سخت منصوبہ متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت بار بار انسانوں کو کاٹنے والے کتوں کو تاحیات شیلٹر ہوم میں رکھا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ایسے آوارہ کتوں سے شہریوں کو محفوظ رکھنا ہے جو متعدد بار لوگوں کو نقصان پہنچا چکے ہوں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ کتے جو دو یا اس سے زیادہ مرتبہ کسی انسان کو کاٹ چکے ہوں گے، انہیں دوبارہ سڑکوں پر چھوڑنے کے بجائے مستقل طور پر نگرانی میں رکھا جائے گا۔

شیلٹر ہوم اور دیکھ بھال

ان کتوں کو کانپور کے علاقے کشن پور میں قائم شیلٹر ہوم منتقل کیا جائے گا، جہاں انہیں خوراک، پانی اور طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ حکام کے مطابق ان جانوروں کے ساتھ کسی قسم کی بدسلوکی نہیں کی جائے گی بلکہ جانوروں کی فلاح کے اصولوں کے مطابق ان کی دیکھ بھال کی جائے گی۔

پاگل اور مشتبہ کتوں کے لیے الگ انتظام

منصوبے کے تحت پاگل یا ریبیز کے شبہے میں مبتلا کتوں کے لیے اینیمل برتھ کنٹرول (اے بی سی) سینٹر میں علیحدہ انتظامات کیے گئے ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں یہاں پچاس کتوں کو رکھنے کی گنجائش پیدا کی جا رہی ہے۔

آوارہ کتوں کی تعداد

کانپور میونسپل کارپوریشن کے مطابق شہر میں آوارہ کتوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے، جبکہ اب تک تقریباً 35 ہزار کتوں کی نس بندی کی جا چکی ہے تاکہ ان کی بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کیا جا سکے۔

کاٹنے کے بعد کارروائی کا طریقہ

چیف ویٹرنری آفیسر ڈاکٹر آر کے نرنجن کے مطابق اگر کوئی کتا کسی شخص کو کاٹ لے تو اسے فوری طور پر پکڑ کر نس بندی کی جاتی ہے اور دس دن تک نگرانی میں رکھا جاتا ہے۔ اگر جانچ کے بعد یہ ثابت ہو جائے کہ کتا نہ پاگل ہے اور نہ ہی ریبیز میں مبتلا ہے تو سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق اسے اسی جگہ چھوڑ دیا جاتا ہے جہاں سے پکڑا گیا ہو۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اگر کوئی شہری ایسے کتے کو گود لینا چاہے تو اسے تحریری حلف نامہ دینا ہوگا، بصورت دیگر ایسے کتوں کو مستقل طور پر اے بی سی سینٹر میں رکھا جائے گا۔

نتیجہ

ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ شہریوں کے تحفظ اور جانوروں کی فلاح کے درمیان توازن قائم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ تاہم اس کی کامیابی کا انحصار مؤثر عملدرآمد اور مسلسل نگرانی پر ہوگا۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے