پاکستان میں جنگلات کی کٹائی اور سیلاب: ایک سنگین حقیقت

Facebook
WhatsApp
Twitter
LinkedIn

پاکستان میں حالیہ برسوں میں سیلاب ایک خطرناک اور مستقل مسئلہ بن چکا ہے۔ مون سون کی شدید بارشوں کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تبدیلی اور جنگلات کی کٹائی نے اس خطرے کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں سیلاب کی شدت اور تباہی مزید بڑھ سکتی ہے۔

جنگلات کی کٹائی: بنیادی وجہ

درخت زمین کے لیے قدرتی ڈھال کا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ بارش کے پانی کو اپنی جڑوں کے ذریعے زمین میں جذب کرتے ہیں اور مٹی کو کٹاؤ سے محفوظ رکھتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں جنگلات کی بڑے پیمانے پر کٹائی کی جا رہی ہے۔

درخت ختم ہونے سے بارش کا پانی زمین میں جذب نہیں ہوتا اور سیدھا دریاؤں اور ندی نالوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ اس اچانک پانی کے دباؤ سے سیلابی ریلے آتے ہیں۔ مٹی کا کٹاؤ بڑھنے سے زمین بنجر ہو جاتی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات بڑھتے ہیں۔

پاکستان میں موجودہ صورتحال

پاکستان کا جنگلاتی رقبہ کل رقبے کے صرف چند فیصد پر مشتمل ہے، جو عالمی معیار کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔ اس کمی کی وجہ سے:

بارشوں کے دوران شہروں میں نکاسی آب کا نظام ناکام ہو جاتا ہے۔ دیہی علاقوں میں سیلابی پانی کھڑی فصلوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں اور معیشت پر اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی کا کردار

عالمی درجہ حرارت میں اضافہ بھی جنگلات کی کمی کے اثرات کو بڑھا رہا ہے۔

برفانی گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ غیر معمولی بارشیں ہو رہی ہیں۔ سیلاب اور خشک سالی دونوں بیک وقت سامنے آ رہے ہیں۔

ممکنہ حل اور اقدامات

سیلاب کے خطرے کو کم کرنے کے لیے جنگلات کی بحالی ناگزیر ہے۔ اس کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جا سکتے ہیں:

بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم چلانا۔ غیر قانونی کٹائی پر سخت پابندی لگانا۔ قدرتی نالوں اور دریاؤں کے راستے بحال کرنا۔ مقامی کمیونٹیز کو شجرکاری میں شامل کرنا۔ اسکولوں اور کالجوں میں درخت لگانے کی مہمات کو فروغ دینا۔

نتیجہ

پاکستان میں سیلاب کی شدت اور تکرار کی سب سے بڑی وجہ جنگلات کی کٹائی ہے۔ اگر ہم نے فوری طور پر شجرکاری اور جنگلات کے تحفظ پر توجہ نہ دی تو آنے والے برسوں میں یہ مسئلہ مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔ درخت لگانا صرف ماحولیاتی ذمے داری نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بقا کی ضمانت ہے