اسلام آباد (24 اگست 2025) – نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ایک مرتبہ پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے اور خبردار کیا ہے کہ آئندہ دو ہفتے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ادارے کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں تیز بارشوں اور بڑھتے ہوئے دریائی بہاؤ کے باعث سیلابی صورتحال کا امکان بڑھ گیا ہے۔
بارشوں کا نیا اسپیل اور ممکنہ اثرات
این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے بتایا کہ موجودہ مون سون اسپیل 23 ستمبر تک جاری رہ سکتا ہے۔ اس دوران سب سے پہلے کراچی اور سندھ کے دیگر اضلاع متاثر ہوں گے، اس کے بعد یہ سسٹم بالائی پنجاب، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی طرف بڑھے گا۔
ادارے نے متنبہ کیا ہے کہ:
-
نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب کا خطرہ موجود ہے۔
-
شمالی علاقہ جات میں لینڈ سلائیڈنگ کا امکان ہے۔
-
بڑے شہروں میں بارش کے پانی کے جمع ہونے سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
دریائے ستلج میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند
چیئرمین این ڈی ایم اے نے انکشاف کیا کہ دریائے ستلج میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے اور آنے والے دنوں میں بہاؤ دو لاکھ کیوسک تک پہنچ سکتا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر کناروں پر آباد آبادیوں کا انخلا ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔
ہنگامی اقدامات اور ریلیف آپریشن
لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ریسپانس سسٹم کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔ پاک فوج اور ایف سی کے دستے پہلے ہی متاثرہ علاقوں میں تعینات ہیں اور اب تک کئی قیمتی جانیں بچائی جا چکی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ:
-
متاثرین کے لیے ریلیف کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں۔
-
کھانے پینے کی اشیاء، ادویات اور خیمے متاثرہ خاندانوں تک پہنچائے جا رہے ہیں۔
-
وفاقی ادارے، صوبائی حکومتیں، این جی اوز اور نجی شعبہ مل کر تعاون فراہم کر رہے ہیں۔
عوام کے لیے احتیاطی ہدایات
این ڈی ایم اے نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ:
-
ادارے کے جاری کردہ الرٹس پر توجہ دیں۔
-
بارشوں کے دوران غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔
-
اگر مقامی انتظامیہ انخلا کا حکم دے تو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔
حکومت کا عزم
وزیراعظم کی ہدایت پر ریلیف آپریشن تیز کر دیا گیا ہے اور حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔



