امریکا نے 75 ممالک کے لیے ویزا اجرا عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے ہزاروں افراد کے سفری اور تعلیمی منصوبے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے امیگریشن پروسیسنگ کے نظام کا دوبارہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت یہ پابندی 21 جنوری سے نافذ العمل ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے تحت مختلف ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا درخواستوں پر عارضی طور پر کارروائی روک دی جائے گی، جبکہ امیگریشن طریقہ کار کو مزید سخت بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق رواں سال اب تک ایک لاکھ سے زائد ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں، جن میں ہزاروں طلبہ ویزے اور متعدد کام سے متعلق اجازت نامے شامل ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ویزا منسوخی اور ملک بدری کی کارروائیاں ایسے غیر ملکی شہریوں کے خلاف کی جا رہی ہیں جن کے خلاف مجرمانہ ریکارڈ یا امریکی قوانین کی خلاف ورزیوں کے شواہد موجود ہیں۔
محکمہ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ امریکا کو محفوظ رکھنے کے لیے امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد جاری رکھا جائے گا، جبکہ ویزا ہولڈرز کی امریکا میں داخلے کے بعد بھی نگرانی کی جا رہی ہے۔
یہ فیصلہ سابق امریکی انتظامیہ کے دور میں اختیار کی گئی سخت امیگریشن پالیسیوں کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے باعث کئی ممالک کے شہری براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔



