حمل میں پیراسیٹامول محفوظ یا خطرناک؟ حقیقت سامنے آ گئی

Facebook
WhatsApp
Twitter
LinkedIn

حمل کے دوران پیراسیٹامول کا استعمال محفوظ؟ ماہرین نے حقیقت واضح کر دی

حمل کے دوران درد یا بخار کی صورت میں دوا کا استعمال ہر خاتون کے لیے ایک حساس مسئلہ ہوتا ہے۔ اسی حوالے سے پیراسیٹامول کے استعمال پر نئی تحقیق نے اہم وضاحت پیش کر دی ہے، جس سے حاملہ خواتین میں پائی جانے والی تشویش کم ہونے کی امید ہے۔

ماہرین کے مطابق پیراسیٹامول، جسے امریکا میں ٹائلینول بھی کہا جاتا ہے، حمل کے دوران استعمال کی جانے والی وہ واحد درد کم کرنے والی دوا ہے جسے محفوظ تصور کیا جاتا ہے، بشرطیکہ اسے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق لیا جائے۔

نئی تحقیق میں کیا سامنے آیا؟

یورپی محققین کی ایک ٹیم نے پیراسیٹامول سے متعلق مختلف خدشات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ یہ تحقیق برطانیہ کے معروف طبی جریدے دی لانسیٹ اوبسٹیٹرکس، گائناکالوجی اینڈ ویمنز ہیلتھ میں شائع ہوئی، جس میں واضح کیا گیا کہ حمل کے دوران اس دوا کے استعمال سے بچوں میں آٹزم یا توجہ کی کمی جیسے امراض کا کوئی مضبوط ثبوت نہیں ملا۔

ماہرینِ صحت کی رائے

لندن یونیورسٹی کے سٹی سینٹ جارج سے وابستہ زچگی اور خواتین کی صحت کی ماہر پروفیسر اسما خلیل کا کہنا ہے کہ دستیاب سائنسی شواہد کے مطابق پیراسیٹامول حمل میں محفوظ ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ دوا مقررہ مقدار اور ڈاکٹر کی ہدایت کے تحت لی جائے تو اس سے بچے کی ذہنی یا جسمانی نشوونما پر منفی اثرات ثابت نہیں ہوئے۔

غیر سائنسی دعوؤں کی تردید

ماہرین نے واضح کیا ہے کہ بعض سیاسی یا غیر مستند بیانات سائنسی بنیادوں پر درست نہیں ہوتے۔ قومی اور بین الاقوامی طبی اداروں نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ پیراسیٹامول سے متعلق خوف پھیلانے کے بجائے شواہد پر مبنی معلومات پر انحصار کیا جانا چاہیے۔

خواتین کے لیے اہم مشورہ

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ حاملہ خواتین کسی بھی دوا کے استعمال سے قبل اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں، تاہم بخار یا درد کی صورت میں پیراسیٹامول کو محفوظ آپشن سمجھا جاتا ہے۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے