چاند پر فی الحال کوئی کیفے یا ہوٹل موجود نہیں، تاہم مستقبل میں یہ منظر بدلنے والا ہے۔ سائنسدانوں اور نجی خلائی کمپنیوں نے چاند پر ہوٹل اور سیاحتی سہولیات قائم کرنے کا باقاعدہ منصوبہ تیار کر لیا ہے۔
ایک امریکی خلائی کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ سال 2032 تک چاند پر دنیا کا پہلا ہوٹل قائم کرے گی، جہاں محدود تعداد میں خلائی سیاح قیام کر سکیں گے۔ ابتدائی منصوبے کے مطابق اس ہوٹل میں پہلے مرحلے میں صرف چار مہمانوں کو ٹھہرایا جائے گا، جبکہ قیام کی مدت پانچ راتوں پر مشتمل ہوگی۔
کمپنی کے مطابق چاند پر بننے والے اس ہوٹل میں آکسیجن پیدا کرنے کا نظام، ہوا اور پانی کی ری سائیکلنگ، درجہ حرارت کنٹرول، ہنگامی انخلا کا انتظام اور سورج کی خطرناک شعاعوں سے بچاؤ کیلئے ریڈی ایشن شیلٹر موجود ہوگا۔
یہ منصوبہ گیلیکٹک ریسورسز یوٹیلائزیشن (GRU Space) نامی کمپنی نے پیش کیا ہے، جسے نجی خلائی اداروں اور جدید ٹیکنالوجی کمپنیوں کی حمایت حاصل ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ابتدائی بکنگ کیلئے بھاری رقم ایڈوانس میں لی جا رہی ہے، جبکہ حتمی ٹکٹ کی قیمت مستقبل میں ایک کروڑ ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔
GRU Space کے مطابق 2029 میں پہلا آزمائشی مشن چاند پر بھیجا جائے گا، جبکہ 2031 میں انفلیٹیبل ڈھانچے کی تنصیب کی جائے گی۔ آخری مرحلے میں 2032 میں مکمل ہوٹل چاند کی سطح پر اتارا جائے گا۔
کمپنی کا ہدف صرف چاند تک محدود نہیں بلکہ مستقبل میں اسی ماڈل کو مریخ پر بھی دہرایا جائے گا، تاکہ انسانیت کو بین السیّاروی زندگی کی طرف لے جایا جا سکے۔



