امریکا شدید برفانی طوفان کی لپیٹ میں، ہلاکتیں اور بڑے پیمانے پر تباہی
امریکا اس وقت شدید برفانی طوفان کی زد میں ہے جس نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ مختلف ریاستوں میں سخت موسمی حالات کے باعث ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ فضائی، زمینی اور بجلی کے نظام کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ
غیر ملکی ذرائع کے مطابق اب تک کم از کم 11 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ نیویارک میں حکام نے بتایا کہ اتوار کے روز پانچ افراد کھلے آسمان تلے مردہ پائے گئے، جن کی اموات کا تعلق شدید سردی سے بتایا جا رہا ہے۔
مختلف ریاستوں میں جانی نقصان
ٹیکساس میں حکام نے تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جبکہ ریاست لوئیزیانا میں دو افراد ہائپوتھرمیا کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اسی طرح آئیووا کے جنوب مشرقی علاقے میں خراب موسم کے باعث ٹریفک حادثے میں ایک شخص ہلاک اور دو افراد زخمی ہو گئے۔
بجلی کی فراہمی شدید متاثر
برفانی طوفان کے نتیجے میں لاکھوں افراد بجلی سے محروم ہو گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق پیر تک آٹھ لاکھ بیس ہزار سے زائد صارفین بجلی کی بندش کا سامنا کرتے رہے، جن میں بڑی تعداد جنوبی ریاستوں کی ہے جہاں طوفان نے شدید شکل اختیار کی۔
سفر پر پابندیاں، شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت
خراب موسمی حالات کے پیشِ نظر حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایات جاری کی ہیں۔ ٹیکساس، نارتھ کیرولائنا اور نیویارک سمیت کئی ریاستوں میں لوگوں کو گھروں میں رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
بیس سے زائد ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ
طوفان کی شدت کے باعث کم از کم 20 امریکی ریاستوں اور وفاقی دارالحکومت واشنگٹن میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے، جبکہ ریسکیو ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔
ہزاروں پروازیں منسوخ، ہوائی اڈے متاثر
شدید برفباری اور خراب موسم کے باعث فضائی نظام بھی مفلوج ہو گیا ہے۔ واشنگٹن، فلاڈیلفیا اور نیویارک کے بڑے ہوائی اڈوں پر تقریباً تمام پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ فلائٹ ٹریکنگ اداروں کے مطابق ہفتے سے اب تک اندرون و بیرون ملک سفر کرنے والی 19 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں۔
مزید سردی کی پیش گوئی
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں درجہ حرارت مزید خطرناک حد تک گر سکتا ہے، جس سے حالات مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔



