بھارت میں نیپا وائرس پھیل گیا، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ خطرے میں

Facebook
WhatsApp
Twitter
LinkedIn

بھارت میں مہلک نیپا وائرس کا پھیلاؤ، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ پر خدشات بڑھ گئے

آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل بھارت میں مہلک نیپا وائرس کے پھیلاؤ کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد ایونٹ کے انعقاد پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ وائرس کے نئے کیسز نے صحت عامہ کے اداروں اور کرکٹ حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا شیڈول

واضح رہے کہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 7 فروری سے 8 مارچ تک بھارت اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہونا ہے، جس میں دنیا بھر سے بین الاقوامی ٹیموں اور ہزاروں شائقین کی آمد متوقع ہے۔

نیپا وائرس کے نئے کیسز رپورٹ

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مغربی بنگال میں نیپا وائرس کے کم از کم پانچ کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔ صورتحال کے پیش نظر ہنگامی طبی اقدامات کیے گئے ہیں اور تقریباً 100 افراد کو قرنطینہ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

طبی عملہ بھی متاثر

ذرائع کے مطابق وائرس سے متاثرہ افراد میں طبی عملے کے ارکان بھی شامل ہیں۔ کولکتہ کی دو نرسیں مبینہ طور پر تشویشناک حالت میں زیر علاج ہیں، جس سے طبی نظام پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عالمی ٹیموں اور شائقین کے لیے تشویش

نیپا وائرس کا پھیلاؤ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مختلف ممالک کی کرکٹ ٹیمیں اور بڑی تعداد میں شائقین ورلڈ کپ کے لیے بھارت پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے سفری اور حفاظتی انتظامات پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

نیپا وائرس کتنا خطرناک ہے؟

ماہرین کے مطابق نیپا وائرس چمگادڑوں کے ذریعے پھیلنے والی ایک خطرناک بیماری ہے، جس کی اموات کی شرح بعض اوقات 75 فیصد تک رپورٹ ہو چکی ہے۔ یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور آلودہ خوراک یا متاثرہ فرد سے قریبی رابطے کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے۔

ماضی میں ہونے والی اموات

بھارتی ریاست کیرالا میں 2018 کے بعد نیپا وائرس کے باعث درجنوں اموات رپورٹ ہو چکی ہیں، جس کے بعد اس وائرس کو صحت عامہ کے لیے ایک سنگین خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی وارننگ

عالمی ادارہ صحت نے نیپا وائرس کو ممکنہ عالمی وبا کے خطرے کے پیش نظر پہلے ہی “Priority Pathogen” قرار دے رکھا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ وائرس مستقبل میں عالمی سطح پر بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

نتیجہ

بھارت میں نیپا وائرس کے حالیہ کیسز نے نہ صرف صحت عامہ بلکہ عالمی کھیلوں کے بڑے ایونٹ پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ آئندہ دنوں میں صورتحال پر قابو پانے کے اقدامات ہی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے مستقبل کا تعین کریں گے۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے