پنجاب پولیس کا اے ٹی سی ججز کی سکیورٹی مضبوط بنانے کا بڑا فیصلہ
پنجاب پولیس نے انسداد دہشت گردی عدالتوں میں فرائض انجام دینے والے ججز کی سکیورٹی مزید مؤثر بنانے کے لیے نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد موجودہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر عدالتی نظام کو محفوظ بنانا ہے۔
11 نئی گاڑیاں خریدنے کی تجویز
ذرائع کے مطابق پنجاب پولیس نے اے ٹی سی ججز کی حفاظت کے لیے 11 نئی بڑی گاڑیاں خریدنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ اس سلسلے میں آئی جی پنجاب کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کو باقاعدہ سمری ارسال کر دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ کو بھجوائی گئی سمری کی تفصیلات
وزیراعلیٰ پنجاب کو بھیجی گئی سمری میں مجموعی طور پر 23 کروڑ 86 لاکھ 45 ہزار روپے کی منظوری طلب کی گئی ہے۔ سمری میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ملک کے عدالتی نظام کو سنگین سکیورٹی خدشات لاحق ہیں، جس کے باعث ججز کے تحفظ کے لیے اضافی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
گاڑیوں کی قیمت اور بلٹ پروف اخراجات
دستاویزات کے مطابق نئی گاڑیوں کی خریداری کے لیے 14 کروڑ 18 لاکھ 45 ہزار روپے درکار ہوں گے، جبکہ ایک گاڑی کی قیمت ایک کروڑ 28 لاکھ 95 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ گاڑیوں کو بلٹ پروف بنانے کے لیے مزید 9 کروڑ 68 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت ایک گاڑی پر 88 لاکھ روپے کا خرچ آئے گا۔
سپلیمنٹری گرانٹ کی درخواست
سمری میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے درخواست کی گئی ہے کہ نئی گاڑیوں کی خریداری اور سکیورٹی انتظامات کے لیے سپلیمنٹری گرانٹ فراہم کی جائے، تاکہ اے ٹی سی ججز کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
نتیجہ
پنجاب پولیس کا یہ اقدام عدالتی نظام کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم مجوزہ اخراجات نے عوامی سطح پر ایک نئی بحث کو بھی جنم دے دیا ہے۔



