افغان شہری کی شمولیت، سندھ ہائیکورٹ نے نادرا سے رپورٹ طلب کر لی

Facebook
WhatsApp
Twitter
LinkedIn

سندھ ہائیکورٹ افغان شہری کو پاکستانی شہری کی فیملی ٹری میں شامل کرنے کے معاملے پر نادرا حکام پر سخت برہم ہو گئی۔ عدالت نے نادرا کو ہدایت کی ہے کہ وہ 10 روز کے اندر درخواست گزار کی پوری فیملی کے قانونی دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لے اور اگر کسی غیر متعلقہ شخص کا نام شامل ہو تو فوری طور پر خارج کیا جائے۔

کراچی میں سندھ ہائیکورٹ میں اس حوالے سے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایک افغان شہری کو غلط طریقے سے پاکستانی شہری کی فیملی ٹری میں شامل کر دیا گیا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نادرا کے بعض اہلکار مبینہ طور پر رشوت لے کر افغان شہریوں کو پاکستانیوں کی فیملی ٹری میں شامل کر دیتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد نے مبینہ طور پر پاکستانی شناختی کارڈ بھی حاصل کر رکھے ہیں۔

وکیل نے مزید کہا کہ افغان شہری نقیب اللہ کو درخواست گزار محمد اکرم کی فیملی ٹری میں شامل کیا گیا، جس کے بعد نادرا نے درخواست گزار کی پوری فیملی کے قومی شناختی کارڈ بلاک کر دیے، جو سراسر ناانصافی ہے۔

اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر درخواست گزار اور ان کا خاندان پاکستانی شہری ہیں تو ان کے شناختی کارڈ بلاک کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ نادرا کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزار کے والد کے بائیومیٹرک کے بعد افغان شہری کو فیملی ٹری میں شامل کیا گیا۔

عدالت نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے نادرا کو حکم دیا کہ وہ 10 روز میں تمام قانونی دستاویزات کا ازسرنو جائزہ لے اور قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے