لاہور میں کھیلے گئے دوسرے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے کرکٹ تاریخ کا ایک انوکھا اور یادگار کارنامہ انجام دے دیا۔ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ کسی ٹیم کی جانب سے حاصل کی گئی تمام 10 وکٹیں صرف اسپنرز کے حصے میں آئیں۔
میچ میں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 198 رنز اسکور کیے۔ ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا کرکٹ ٹیم کی بیٹنگ لائن مکمل طور پر پاکستانی اسپنرز کے سامنے بے بس نظر آئی اور پوری ٹیم 16ویں اوور میں صرف 108 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔
اس شاندار مقابلے میں پاکستانی اسپنرز نے غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ابرار احمد اور شاداب خان نے تین، تین وکٹیں حاصل کیں جبکہ عثمان طارق نے دو کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ اس کے علاوہ صائم ایوب اور محمد نواز نے ایک، ایک وکٹ اپنے نام کی۔
اس فتح کے ساتھ پاکستان نے نہ صرف آسٹریلیا کو 90 رنز کے واضح مارجن سے شکست دی بلکہ دو میچوں کی سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری بھی حاصل کرلی۔ یہ واقعہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی تاریخ میں مجموعی طور پر دسواں جبکہ فل ممبر ممالک کے درمیان صرف دوسرا موقع ہے جب ایک اننگز کی تمام وکٹیں اسپنرز نے حاصل کی ہوں۔
اس سے قبل یہ اعزاز صرف بھارت کے حصے میں آیا تھا، جس نے 2022 میں فلوریڈا میں ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ میں تمام دس وکٹیں اسپنرز کے ذریعے حاصل کی تھیں۔



