ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند ہونے سے متعلق خدشات پر عوام کے لیے ایک اہم خبر سامنے آگئی ہے۔ پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر مسائل حل نہ کیے گئے تو 12 فروری کے بعد ملک بھر میں سخت ردعمل دیا جا سکتا ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق حکومت نے پیٹرول پمپس کے K فارم کی تجدید کو ڈیجیٹل آٹو گیجنگ سسٹم کی تنصیب سے مشروط کر دیا ہے۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ اگر مقررہ تاریخ تک فارم کی تجدید نہ ہوئی تو 12 فروری کے بعد تمام پیٹرول پمپس غیر قانونی تصور کیے جائیں گے۔
پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسميع خان نے بتایا کہ نئے آٹو گیجنگ ڈیجیٹل سسٹم کی تنصیب کے لیے اربوں روپے درکار ہیں، جو چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیلرز کی استطاعت سے باہر ہے۔ ان کے مطابق صرف اس سسٹم پر تقریباً 40 ارب روپے لاگت آئے گی۔
ڈیلرز کا مؤقف ہے کہ یہ نظام آئل مارکیٹنگ کمپنیاں نصب کریں، کیونکہ وہی پیٹرول کی درآمد اور فروخت کی ذمہ دار ہیں۔ اسی حوالے سے حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا آڈٹ کرایا جائے تاکہ درآمد اور فروخت کے اعداد و شمار واضح ہو سکیں۔
ایسوسی ایشن کے رہنماؤں امیر خان اور نثار گجر کا کہنا ہے کہ پیٹرول پمپس پر ای وی چارجر لگانے کی شرط بھی زمینی حقائق کے برعکس ہے، کیونکہ ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کا تناسب صرف دو سے تین فیصد ہے جبکہ ساٹھ فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔
پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے زبردستی کارروائی کی گئی تو ملک بھر میں پیٹرول پمپس مالکان احتجاجی اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوں گے، جس کے نتیجے میں عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔



