سائنسی دنیا میں ایک حیران کن پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سائنس دانوں نے ایسی قدرتی چینی تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو استعمال کے بعد جسم میں انسولین کی سطح کو نمایاں طور پر متاثر نہیں کرتی۔ ماہرین کے مطابق یہ ایجاد ذیابیطس اور میٹابولک مسائل سے دوچار افراد کے لیے مستقبل میں ایک اہم متبادل ثابت ہو سکتی ہے۔
تحقیقی ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی چینی جسم میں داخل ہوتے ہی انسولین کے اخراج کو تیز کر دیتی ہے، جس کے باعث شوگر لیول میں اچانک اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم نئی تیار کی گئی قدرتی چینی کا کیمیائی ڈھانچہ اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ جسم میں آہستہ جذب ہوتی ہے اور انسولین پر فوری دباؤ نہیں ڈالتی۔
سائنس دانوں کے مطابق اس چینی کی تیاری میں قدرتی ذرائع اور جدید بایوٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے، جس کا مقصد مٹھاس برقرار رکھتے ہوئے صحت پر منفی اثرات کو کم کرنا ہے۔ ابتدائی تجربات میں اس کے نتائج حوصلہ افزا قرار دیے جا رہے ہیں، تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ عام استعمال سے قبل مزید طبی آزمائشیں ضروری ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر یہ تحقیق کامیابی سے عملی مرحلے میں داخل ہو گئی تو خوراک، مشروبات اور میٹھے پکوانوں کی صنعت میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے، خصوصاً ان افراد کے لیے جو شوگر یا وزن کے مسائل کے باعث میٹھے سے پرہیز پر مجبور ہوتے ہیں۔
سائنسی حلقوں میں اس ایجاد کو ایک ممکنہ فوڈ ریولوشن قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ کسی بھی نئی غذائی ایجاد کو اپنانے سے پہلے مستند طبی رائے کو ضرور مدنظر رکھا جائے۔



