سعودی عرب میں رسیوں پر لٹکے مزدور، صرف شیشے نہیں خواب صاف کر رہے ہیں

Facebook
WhatsApp
Twitter
LinkedIn

سعودی عرب کی بلند و بالا عمارتوں پر رسیوں کے سہارے لٹکے یہ مزدور محض شیشے صاف کرنے میں مصروف نہیں، بلکہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل، والدین کی امیدوں اور گھر والوں کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب میں لاکھوں غیر ملکی ورکرز روزگار کے لیے کام کر رہے ہیں، جن میں بڑی تعداد پاکستانی محنت کشوں کی ہے۔ یہ ورکرز شدید گرمی، خطرناک بلندیوں اور جان جوکھم میں ڈالنے والے کاموں کے باوجود دن رات محنت کر کے حلال رزق کماتے ہیں۔

ان مزدوروں کی زندگی آسان نہیں۔ کئی کئی گھنٹے بلندی پر رسیوں کے سہارے کام کرنا، ذرا سی لغزش پر جان جانے کا خطرہ، مگر اس کے باوجود ان کے چہروں پر ہمت اور حوصلے کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔ یہ وہ قربانیاں ہیں جو وہ اپنے خاندان کی خوشیوں کے لیے دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایسے خطرناک کاموں میں مصروف مزدور اکثر حفاظتی سہولیات کی کمی کا بھی سامنا کرتے ہیں، تاہم مجبوری اور روزگار کی تلاش انہیں ان حالات میں کام کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

پاکستانی ورکرز کا کہنا ہے کہ پردیس میں کام آسان نہیں، مگر وطن میں بسنے والے بچوں، والدین اور اہلِ خانہ کی بہتر زندگی کے لیے وہ ہر مشکل برداشت کرتے ہیں۔
“ہم اپنی جان خطرے میں ڈال کر بھی کام کرتے ہیں، کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے پسینے سے گھر میں خوشحالی آئے گی”، ایک مزدور نے بتایا۔

یہ مزدور خاموش ہیرو ہیں، جو نہ کسی خبر کی زینت بنتے ہیں اور نہ کسی اعزاز کے طلبگار ہوتے ہیں، مگر ان کی محنت ہی دراصل کئی گھروں کی خوشیوں کی بنیاد ہے۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے