امریکا نے کیریبین کے سمندری علاقے میں ایک اور آئل ٹینکر پر قبضہ کر لیا ہے، جسے وینزویلا سے پابندی زدہ تیل لے جانے کا الزام ہے۔
امریکی جنوبی کمانڈ کے مطابق یہ پانچواں تیل بردار جہاز ہے جسے حالیہ عرصے میں کارروائی کے دوران قبضے میں لیا گیا۔
جنوبی کمانڈ کا کہنا ہے کہ آئل ٹینکر نے امریکی ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کی، جس کے بعد مشترکہ بین الادارہ فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے جہاز کو تحویل میں لے لیا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جہاز پر موجود عملے کے دو روسی ارکان کو ابتدائی تفتیش کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔
جنوبی کمانڈ کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی ایک واضح پیغام ہے کہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ موجود نہیں۔
دوسری جانب امریکی حکومتی ریکارڈ کے مطابق اس آئل ٹینکر کو پہلے ایک مختلف نام کے تحت روسی تیل کی ترسیل کے لیے اجازت دی گئی تھی، تاہم بعد ازاں اس کی سرگرمیوں پر سوالات اٹھے۔
ماہرین کے مطابق ایرانی تیل کی پیداوار میں ممکنہ رکاوٹ اور وینزویلا سے سپلائی میں خدشات کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل بھی مہنگا ہوا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وینزویلا کے تیل کی ترسیل پر نگرانی کا عمل غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا تاکہ پابندیوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
یہ پیش رفت عالمی توانائی منڈی اور جغرافیائی سیاست پر اثر انداز ہونے کے امکانات رکھتی ہے، جس پر عالمی مبصرین کی گہری نظر ہے۔



