بھارت: گھر میں نماز پڑھنے پر 12 افراد گرفتار

Facebook
WhatsApp
Twitter
LinkedIn

بھارت: بریلی میں گھر کے اندر باجماعت نماز، پولیس کارروائی پر تنازع کھڑا ہو گیا

نئی دہلی: بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع بریلی میں ایک گھر کے اندر باجماعت نماز ادا کرنے کے معاملے پر پولیس کی کارروائی نے نیا تنازع جنم دے دیا ہے۔ پولیس نے امن و امان متاثر کرنے کے الزام میں 12 افراد کو حراست میں لیا، تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں گاؤں کے چند مسلمان ایک رہائشی مکان کے اندر باجماعت نماز ادا کرتے دکھائی دیے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد مقامی افراد کی جانب سے پولیس کو اطلاع دی گئی۔

پولیس کارروائی کی وجہ کیا بنی؟

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کو بتایا گیا کہ ایک خالی مکان کو مبینہ طور پر کئی ہفتوں سے عارضی مسجد کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اطلاع ملنے پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے وہاں موجود 12 افراد کو حراست میں لے لیا۔

ابتدائی تحقیقات میں پولیس نے بتایا کہ یہ مکان حنیف نامی شخص کی ملکیت ہے اور مالک کی اجازت سے وہاں نماز ادا کی جا رہی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مکان کو جمعہ کی نماز کے لیے عارضی طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

عدالت سے ضمانت پر رہائی

گرفتار کیے گئے تمام افراد کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید قانونی جانچ کی جا رہی ہے۔

سیاسی ردِعمل اور تنقید

واقعے پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ کانگریس رہنما ڈاکٹر شمع نے پولیس کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو ان کے گھروں میں عبادت کرنے پر گرفتار کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ آخر کن قوانین کے تحت یہ گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

انڈین نیشنل کانگریس کی قومی ترجمان اور صحافی سپریا شرینیت نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی عبادت پر اس نوعیت کی کارروائیاں سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق ایسے واقعات معاشرے میں مذہبی حساسیت کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے