چینی گاڑیوں کی کینیڈا میں انٹری، امریکا کا دوٹوک پیغام

Facebook
WhatsApp
Twitter
LinkedIn

امریکا نے کینیڈا کی جانب سے چینی الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کو درآمد کی اجازت دینے کے فیصلے پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈا کو اپنے اس فیصلے پر پچھتانا پڑے گا۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹ شان ڈفی کا کہنا تھا کہ کینیڈا نے چینی گاڑیوں کو اپنی مارکیٹ میں آنے کی اجازت دے کر غلط فیصلہ کیا ہے اور یہ گاڑیاں امریکا میں داخل نہیں ہونے دی جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنی آٹو انڈسٹری اور مقامی ورکرز کے تحفظ کے لیے کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا اور چینی الیکٹرک گاڑیوں کے خلاف سخت پالیسی برقرار رکھی جائے گی۔

واضح رہے کہ کینیڈا نے سال 2024 میں چینی الیکٹرک گاڑیوں پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا، تاہم حالیہ پیش رفت میں وزیرِاعظم مارک کارنی نے بیجنگ میں ایک معاہدے کا اعلان کیا ہے۔

اس معاہدے کے تحت 49 ہزار تک چینی الیکٹرک گاڑیاں صرف 6.1 فیصد ٹیرف کے ساتھ کینیڈا درآمد کی جا سکیں گی، جسے امریکا نے اپنی آٹو انڈسٹری کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیا ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر کے مطابق یہ گاڑیاں صرف کینیڈا تک محدود رہیں گی اور امریکی مارکیٹ میں ان کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اپنے آٹو ورکرز کے تحفظ کے لیے چینی گاڑیوں پر سخت ٹیرف برقرار رکھے گا اور کسی قسم کی نرمی پر غور نہیں کیا جائے گا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا میں گاڑیوں کی سائبر سیکیورٹی سے متعلق سخت قوانین موجود ہیں، جس کے باعث چینی الیکٹرک گاڑیوں کے لیے امریکی مارکیٹ میں داخلہ انتہائی مشکل ہوگا۔

ادھر امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت بیانات کے بعد کینیڈا نے ممکنہ تجارتی دباؤ کے پیش نظر دفاعی اور اقتصادی سطح پر تیاریوں کا آغاز بھی کر دیا ہے۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے