چکن زیادہ کھانا کتنا محفوظ؟ نئی تحقیق نے صحت سے متعلق خدشات بڑھا دیے
چکن کو طویل عرصے تک صحت بخش غذا سمجھا جاتا رہا ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو وزن کم کرنے، فٹنس بہتر بنانے یا متوازن غذا اپنانے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ تاہم حالیہ سائنسی تحقیق نے چکن کے زیادہ استعمال سے متعلق ایسے حقائق سامنے لائے ہیں جنہوں نے ماہرینِ صحت اور عوام دونوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ چکن کو عموماً سرخ گوشت کے مقابلے میں بہتر انتخاب سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کا حد سے زیادہ استعمال فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چکن کی زیادتی معدے اور نظامِ ہاضمہ سے جڑی سنگین بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔
نئی تحقیق میں کیا انکشاف ہوا؟
حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ افراد جو ہفتہ وار بڑی مقدار میں چکن استعمال کرتے ہیں، ان میں معدے اور آنتوں سے متعلق کینسر کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق مسلسل اور زیادہ مقدار میں چکن کھانے سے مجموعی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر مردوں میں یہ خطرات زیادہ دیکھے گئے ہیں۔
مسئلہ چکن یا استعمال کا طریقہ؟
ماہرین غذائیت اس بات پر متفق ہیں کہ چکن بذاتِ خود کینسر کی براہِ راست وجہ ثابت نہیں ہوا، تاہم اصل خطرہ اس کے بے اعتدال استعمال اور غلط طریقے سے پکانے سے جڑا ہوا ہے۔ خاص طور پر تیز آنچ پر فرائی یا گرِل کرنے سے ایسے کیمیائی مادے پیدا ہو سکتے ہیں جو انسانی جسم کے خلیات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
پراسیس شدہ چکن اور اینٹی بایوٹکس کا خطرہ
تحقیق میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پراسیس شدہ چکن، غیر متوازن خوراک اور پولٹری فارمنگ میں اینٹی بایوٹکس کے زیادہ استعمال سے صحت کے مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ عناصر جگر، لبلبے اور آنتوں سمیت مختلف اعضا کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ماہرین کی تجویز
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ چکن کو مکمل طور پر ترک کرنے کے بجائے اعتدال کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ ہفتے میں محدود مقدار کو نسبتاً محفوظ قرار دیا جاتا ہے، جبکہ صحت مند طرزِ زندگی کے لیے خوراک میں مچھلی، انڈے، دالیں، سبزیاں اور فائبر سے بھرپور اشیاء کو بھی شامل کرنا ضروری ہے۔



