امریکی ریاست نیوجرسی میں ایک غیر معمولی اور توجہ حاصل کرنے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک گٹار اسٹور سے قیمتی موسیقی کے آلات چوری کرنے والا شخص چند دن بعد معافی نامہ لکھ کر تمام اشیا واپس کر گیا۔ اس واقعے نے نہ صرف مقامی افراد بلکہ سوشل میڈیا صارفین کو بھی حیران کر دیا اور اسے ایک فلمی منظر سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ نیوجرسی کے ایک مصروف علاقے میں واقع لارک اسٹریٹ میوزک نامی اسٹور میں پیش آیا، جہاں نامعلوم شخص نے رات کے وقت اسٹور میں داخل ہو کر قیمتی موسیقی کے آلات چوری کر لیے تھے۔ ابتدائی طور پر یہ ایک عام چوری کا واقعہ سمجھا جا رہا تھا، تاہم چند دن بعد ہونے والی غیر متوقع پیش رفت نے اس معاملے کو منفرد بنا دیا۔
اسٹور انتظامیہ کے مطابق چور نے دو قیمتی مینڈولین، جو کہ چھوٹے لیوٹ نما موسیقی کے آلات ہوتے ہیں، چرا لیے تھے۔ ان آلات کی مجموعی مالیت تقریباً 8 ہزار امریکی ڈالر کے قریب بتائی جا رہی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں لگ بھگ ساڑھے سات لاکھ روپے بنتی ہے۔ چوری کے بعد اسٹور کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کی گئی، جس میں چور کو سامان لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔
چوری کی فوٹیج اور تصاویر اسٹور کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کی گئیں تاکہ عوام سے مدد حاصل کی جا سکے۔ اس اقدام کے بعد معاملہ مقامی سطح پر خاصی توجہ کا مرکز بن گیا اور فوٹیج سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے لگی۔
چند روز بعد ایک حیران کن موڑ اس وقت آیا جب وہی شخص دوبارہ اسٹور میں نمودار ہوا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق چور خاموشی سے سامنے کے دروازے سے اندر داخل ہوا اور دو شاپنگ بیگز میں رکھے گئے تمام آلات واپس کر دیے۔ اس کے ساتھ اس نے ہاتھ سے لکھا ہوا ایک مختصر معافی نامہ بھی چھوڑا۔
اس معافی نامے میں لکھا تھا:
“معذرت، میں نشے میں تھا۔
میری کرسمس۔
آپ اچھے آدمی ہیں۔”
اسٹور کے مالک بزی لیوائن نے بعد ازاں اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سامان کی واپسی ان کے لیے انتہائی غیر متوقع تھی۔ ان کے مطابق جب انہوں نے دروازے کی طرف حرکت کی تو چور سڑک پر بھاگتا ہوا نظر آیا۔ انہوں نے فوری طور پر لوگوں کو آواز دی اور اس کا پیچھا کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
لیوائن کے مطابق اس کے فوراً بعد ہنگامی نمبر پر کال کی گئی اور پولیس کو واقعے سے آگاہ کیا گیا۔ پولیس نے معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے چور کی شناخت کی کوششیں جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ سامان واپس کر دیا گیا ہے، تاہم قانون کے مطابق تفتیش کا عمل جاری رکھا جائے گا۔
اسٹور کے مالک نے فیس بک پر ایک پوسٹ کے ذریعے عوام کو آگاہ کیا کہ تمام چوری شدہ اشیا واپس مل گئی ہیں۔ انہوں نے ان افراد کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے فوٹیج کو شیئر کیا اور معاملے کو اجاگر کرنے میں مدد فراہم کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ نقصان واپس ہو گیا ہے، تاہم یہ واقعہ ان کے لیے ایک جذباتی تجربہ تھا۔
لیوائن نے مزید بتایا کہ قیمتی آلات کی واپسی کے بعد انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ کسی فلم کا منظر دیکھ رہے ہوں۔ ان کے مطابق عام طور پر چوری کے واقعات میں سامان کی واپسی بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے، خاص طور پر اس انداز میں کہ چور خود آ کر معافی نامے کے ساتھ اشیا واپس کر دے۔
سماجی ماہرین کے مطابق اس واقعے نے یہ سوال بھی پیدا کر دیا ہے کہ بعض اوقات افراد وقتی جذبات یا نشے کی حالت میں ایسے اقدامات کر بیٹھتے ہیں جن پر بعد میں انہیں شدید پچھتاوا ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ قانون شکنی کسی صورت قابل قبول نہیں، تاہم غلطی کا اعتراف اور نقصان کی تلافی ایک مثبت طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے۔
دوسری جانب بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات کو غیر معمولی بنا کر پیش کرنے کے بجائے قانون کی بالادستی کو ترجیح دینی چاہیے، تاکہ معاشرے میں یہ تاثر قائم نہ ہو کہ معافی نامہ لکھنے سے جرم کی سنگینی کم ہو جاتی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور تاحال کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ شواہد کی بنیاد پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
نتیجہ:
نیوجرسی میں پیش آنے والا یہ واقعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد ضرور ہے، تاہم یہ اس حقیقت کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ قانون شکنی کسی بھی حالت میں درست نہیں سمجھی جاتی۔ اگرچہ چور کی جانب سے سامان واپس کرنا اور معافی نامہ لکھنا ایک غیر معمولی اقدام ہے، مگر قانونی تقاضے اپنی جگہ برقرار رہتے ہیں۔ یہ واقعہ معاشرتی سطح پر بحث کا باعث بنا ہوا ہے اور لوگ اسے ایک سبق آموز مثال کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔



