امریکا میں حالیہ دنوں ایک اہم اور علامتی واقعہ اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب نیویارک کے پہلے مسلم میئر ظہران ممدانی نے اپنے عہدے کا حلف قرآنِ پاک پر ہاتھ رکھ کر اٹھایا۔ اس حلف برداری کو مذہبی آزادی، آئینی اقدار اور جمہوری تنوع کی ایک نمایاں مثال قرار دیا گیا۔ تاہم اس موقع پر یہ سوال بھی سامنے آیا کہ کیا یہ امریکا کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ کسی منتخب عوامی نمائندے نے قرآنِ پاک پر حلف لیا۔
نئے سال کے آغاز پر منعقد ہونے والی اس تقریب میں ظہران ممدانی نے اپنے منصب کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آئین کے مطابق فرائض انجام دیں گے اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ کریں گے۔ انہوں نے قرآنِ پاک پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھایا، جسے دنیا بھر میں خاصی توجہ حاصل ہوئی۔
اس حلف برداری کے بعد بعض حلقوں میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ امریکا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی عوامی عہدے پر منتخب ہونے والے فرد نے قرآنِ پاک پر حلف لیا ہے۔ تاہم تاریخی ریکارڈ اس دعوے کی تائید نہیں کرتا، کیونکہ اس سے قبل بھی امریکا میں منتخب مسلمان نمائندے قرآنِ پاک پر حلف اٹھا چکے ہیں۔
امریکی آئین مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے اور منتخب نمائندوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی مذہبی کتاب یا علامت کے ذریعے اپنے منصب کا حلف اٹھائیں۔ آئین میں اس حوالے سے کوئی پابندی موجود نہیں، جس کے باعث مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی عقیدت اور یقین کے مطابق حلف برداری کا طریقہ اختیار کرتے رہے ہیں۔
تاریخی طور پر امریکا میں قرآنِ پاک پر پہلا حلف سال 2007 میں لیا گیا تھا۔ اس وقت ریاست منیسوٹا سے منتخب ہونے والے امریکی کانگریس کے رکن کیتھ ایلیسن نے قرآنِ پاک پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھایا۔ وہ امریکا کے پہلے مسلم رکنِ کانگریس تھے اور ان کی حلف برداری کو مذہبی تنوع کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا تھا۔
کیتھ ایلیسن کی حلف برداری کے بعد اس موضوع پر امریکا میں خاصی بحث بھی ہوئی، تاہم آئینی ماہرین نے واضح کیا کہ امریکی قانون کے تحت کسی بھی مذہبی کتاب پر حلف اٹھانا مکمل طور پر جائز ہے اور یہ آئین سے متصادم نہیں۔
بعد ازاں 2019 میں امریکی کانگریس کی رکن الہان عمر نے بھی قرآنِ پاک پر ہاتھ رکھ کر اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ وہ بھی منیسوٹا سے منتخب ہوئیں اور امریکی کانگریس میں مسلمانوں کی نمائندگی کو مزید مضبوط کرنے کا سبب بنیں۔ اسی سال مشی گن سے منتخب ہونے والی رشیدہ طلیب نے بھی قرآنِ پاک پر حلف اٹھایا، جس سے یہ واضح ہوا کہ امریکا میں منتخب مسلم نمائندوں کیلئے یہ عمل اب ایک تسلیم شدہ روایت بن چکا ہے۔
ان تمام مثالوں کے باوجود ظہران ممدانی کی حالیہ حلف برداری کو اس لیے منفرد قرار دیا جا رہا ہے کہ انہوں نے کانگریس یا قانون ساز ادارے کے رکن کی حیثیت سے نہیں بلکہ امریکا کے ایک بڑے شہر کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر حلف اٹھایا۔ اس سے قبل قرآنِ پاک پر ہونے والی تمام حلف برداریاں وفاقی قانون ساز اداروں تک محدود تھیں۔
نیویارک جیسے بڑے اور بین الاقوامی شہر میں کسی مسلم میئر کی قرآنِ پاک پر حلف برداری کو شہری انتظامیہ کی سطح پر ایک نئی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکا میں مقامی حکومتوں تک مذہبی تنوع اور آئینی آزادی کی عملی صورتیں نظر آ رہی ہیں۔
ممدانی کی حلف برداری کے بعد عوامی ردِعمل بھی سامنے آیا، جس میں مختلف آرا شامل تھیں۔ بعض حلقوں نے اسے مذہبی آزادی اور مساوی حقوق کی علامت قرار دیا، جبکہ کچھ افراد نے سوالات بھی اٹھائے۔ تاہم آئینی نقطۂ نظر سے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ امریکی آئین میں اس عمل کی مکمل اجازت موجود ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو امریکا میں قرآنِ پاک پر حلف اٹھانے کی روایت نئی نہیں، بلکہ یہ سلسلہ تقریباً دو دہائیوں پر محیط ہے۔ کیتھ ایلیسن، الہان عمر اور رشیدہ طلیب کے بعد ظہران ممدانی کی حلف برداری اس روایت کا تسلسل ہے، تاہم ان کا منصب اس عمل کو مزید نمایاں بناتا ہے۔
یہ واقعات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکی جمہوری نظام مذہبی آزادی، تنوع اور مساوی نمائندگی کے اصولوں کو تسلیم کرتا ہے، اور عوامی عہدوں پر مختلف پس منظر رکھنے والے افراد کو آئینی حدود کے اندر اپنی شناخت کے ساتھ خدمات انجام دینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔



