اسلام آباد:
جدید دور کی تیز رفتار زندگی نے انسان کے رہن سہن کے انداز کو مکمل طور پر بدل دیا ہے، مگر ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہی تبدیلیاں خاموشی سے کئی بیماریوں کو جنم دے رہی ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق دیر تک بیٹھ کر کام کرنا، نیند کی کمی، غیر متوازن غذا اور اسکرین کا حد سے زیادہ استعمال وہ بنیادی عوامل ہیں جو موٹاپے، دل کی بیماریوں، شوگر اور ذہنی دباؤ کا سبب بن رہے ہیں۔
تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ روزانہ کم از کم 30 منٹ کی جسمانی سرگرمی، متوازن غذا اور موبائل فون سے وقفہ لینے سے نہ صرف جسمانی صحت بہتر ہوتی ہے بلکہ ذہنی سکون میں بھی نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کا دورانیہ کم از کم 7 سے 8 گھنٹے ہونا چاہیے، کیونکہ ناکافی نیند یادداشت کی کمزوری، چڑچڑاپن اور قوتِ مدافعت میں کمی کا باعث بنتی ہے۔
اس کے علاوہ، ماہرین نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال اضطراب اور ڈپریشن کو بڑھا سکتا ہے، اس لیے ڈیجیٹل ڈی ٹاکس کو معمول کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
صحت مند لائف اسٹائل اپنانے کے لیے پانی کا زیادہ استعمال، تازہ پھل اور سبزیاں، اور روزمرہ کے معمولات میں سادگی کو ترجیح دینا نہایت ضروری ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر لوگ آج اپنی عادتیں درست کرلیں تو مستقبل میں مہنگے علاج اور پیچیدہ بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔



