کراچی میں 100 تولہ سونا چوری کرنے والی گھریلو ملازماؤں کے مزید راز سامنے آ گئے

Facebook
WhatsApp
Twitter
LinkedIn

کراچی کے علاقے محمد علی سوسائٹی میں 100 تولہ سونا چوری کرنے والی گھریلو ملازماؤں سے متعلق مزید انکشافات سامنے آ گئے ہیں، جن کے مطابق دونوں خواتین عادی جرائم پیشہ اور مختلف مقدمات میں مطلوب ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق حالیہ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ بہادرآباد کے ایک اور خاندان نے بھی دونوں گھریلو ملازماؤں کی شناخت کر لی ہے، جنہوں نے وہاں بھی چوری کی واردات انجام دی تھی۔

پولیس کے مطابق مذکورہ ملازماؤں نے بہادرآباد کے علاقے میں واقع ایک گھر سے 15 تولہ سونا چوری کیا تھا، تاہم اس وقت مقدمہ درج نہ ہو سکا اور ملزمان کی تلاش بھی مؤثر انداز میں نہیں کی گئی۔

خاندان کے افراد کا کہنا ہے کہ انہوں نے دونوں خواتین کو گھریلو ملازمہ کے طور پر رکھا تھا، جنہوں نے اپنے نام دلشاد اور نادیہ بتائے تھے اور وہ تقریباً 15 سے 16 روز تک گھر میں کام کے لیے آتی رہی تھیں۔

متاثرہ خاندان کے مطابق 5 جنوری کو خاتون کی الماری سے بالیاں، انگوٹھیاں اور دیگر زیورات چوری کیے گئے، جن کی مجموعی مالیت لاکھوں روپے بنتی ہے۔

تحقیقات کے مطابق واردات کے صرف دو روز بعد ہی دونوں ملازماؤں نے محمد علی سوسائٹی میں ایک اور گھر میں کام حاصل کر لیا، جہاں انہوں نے 100 تولہ سے زائد سونا چوری کیا اور فرار ہو گئیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں خواتین کی گرفتاری کے لیے تلاش کا عمل تیز کر دیا گیا ہے اور مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

حکام کے مطابق اس کیس نے شہریوں کے لیے گھریلو ملازمین کی تصدیق اور نگرانی کے عمل کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے