کراچی:
کراچی میں ایک بار پھر موسمی بیماریوں کے ساتھ سپر انفلوئنزا وائرس کے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق متاثرہ افراد شدید کھانسی، نزلہ، بخار، جسمانی اور اعصابی درد جیسی علامات کے ساتھ علاج کے لیے رجوع کر رہے ہیں، جس پر صحت کے ماہرین نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت جاری کی ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں سرکاری اور نجی اسپتالوں کے او پی ڈیز میں ایسے مریضوں کا دباؤ بڑھا ہے جو عام فلو کے بجائے زیادہ شدت والی علامات کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ سپر انفلوئنزا وائرس موسمی تبدیلیوں کے ساتھ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے اور اگر بروقت تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو یہ بیماری سنگین صورت اختیار کر سکتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق اس وائرس کی عام علامات میں تیز بخار، مسلسل کھانسی، نزلہ، گلے میں خراش، شدید سردرد، جسم ٹوٹنے کا احساس اور مجموعی طور پر اعصابی کمزوری شامل ہے۔ بعض مریضوں میں سانس لینے میں دشواری اور تھکن کی شکایت بھی سامنے آ رہی ہے، جو تشویشناک سمجھی جا رہی ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ انفلوئنزا کو عام طور پر ایک موسمی بیماری سمجھا جاتا ہے، تاہم اس کی بعض اقسام، خصوصاً انفلوئنزا اے (ایچ تھری این ٹو)، زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ وائرس 1968 سے دنیا کے مختلف حصوں میں موجود ہے اور وقت کے ساتھ اس میں متعدد جینیاتی تبدیلیاں آ چکی ہیں، جس کی وجہ سے یہ انسانی مدافعتی نظام سے بچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ انفلوئنزا وائرس کی یہی خاصیت اسے ہر سال ایک نئے انداز میں ظاہر ہونے کا موقع دیتی ہے، اسی لیے فلو کی ویکسین کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ویکسینیشن کے باوجود مکمل احتیاط نہ برتی جائے تو وائرس پھیلنے کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بچوں میں یہ وائرس تیزی سے پھیلتا ہے کیونکہ وہ اسکولوں اور دیگر سرگرمیوں کے دوران زیادہ میل جول رکھتے ہیں۔ اسی طرح 64 برس سے زائد عمر کے افراد، دل، پھیپھڑوں، شوگر یا دیگر دائمی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے یہ وائرس زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسے افراد میں پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور بعض صورتوں میں مریض کو آئی سی یو یا وینٹی لیٹر کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر بھی انفلوئنزا کو ایک مسلسل ارتقا پذیر بیماری سمجھا جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹس کے مطابق یہ وائرس ہر سال جینیاتی تبدیلیوں کے ذریعے نئی صورت اختیار کرتا ہے، جس کی وجہ سے اس پر قابو پانے کے لیے مستقل نگرانی اور احتیاطی حکمت عملی کی ضرورت رہتی ہے۔
کراچی کے طبی حلقوں کا کہنا ہے کہ شہر کی گنجان آبادی، آلودگی، موسمی تبدیلیاں اور عوامی مقامات پر احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنا وائرس کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق ماسک کا استعمال نہ کرنا، بار بار ہاتھ نہ دھونا اور رش والی جگہوں پر غیر ضروری موجودگی اس بیماری کو مزید پھیلانے کا سبب بن سکتی ہے۔
ماہرین صحت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کھانسی یا نزلہ کی صورت میں ماسک کا استعمال یقینی بنائیں، ہاتھوں کو صابن یا سینیٹائزر سے بار بار صاف کریں اور غیر ضروری اجتماعات سے گریز کریں۔ اس کے علاوہ گھروں اور دفاتر میں مناسب ہوا کی آمد و رفت کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی فرد میں بخار، شدید کھانسی، جسمانی درد یا سانس میں دشواری جیسی علامات ظاہر ہوں تو خود علاج کے بجائے فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔ ان کے مطابق بروقت تشخیص اور علاج سے بیماری کی شدت کو کم کیا جا سکتا ہے اور پیچیدگیوں سے بچاؤ ممکن ہے۔
ڈاکٹروں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اینٹی بایوٹکس کا بلا ضرورت استعمال انفلوئنزا کے علاج میں مؤثر نہیں ہوتا کیونکہ یہ وائرس سے پیدا ہونے والی بیماری ہے۔ غیر ضروری ادویات کے استعمال سے مریض کی حالت مزید بگڑ سکتی ہے، اس لیے علاج ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے سے ہی کیا جانا چاہیے۔
صحت کے ماہرین نے والدین کو خصوصی طور پر متوجہ کیا ہے کہ وہ بچوں کی صحت پر کڑی نظر رکھیں۔ اسکول جانے والے بچوں میں اگر فلو جیسی علامات ظاہر ہوں تو انہیں آرام دیا جائے اور اسکول بھیجنے سے گریز کیا جائے تاکہ وائرس مزید نہ پھیلے۔
نتیجہ:
کراچی میں سپر انفلوئنزا وائرس کے کیسز میں اضافہ شہریوں کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ اگرچہ یہ بیماری نئی نہیں، تاہم اس کی شدت اور تیز پھیلاؤ عوامی صحت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ احتیاطی تدابیر، بروقت تشخیص اور ذمہ دارانہ رویہ ہی اس وائرس سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ صحت سے متعلق ہدایات پر عمل کریں، اپنی اور دوسروں کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور کسی بھی علامت کی صورت میں فوری طبی مدد حاصل کریں۔



