پی ٹی آئی سے مذاکرات پر ابہام، خواجہ آصف نے اعتماد کے بحران کی نشاندہی کر دی
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مذاکرات کے معاملے پر حکومت کے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بات چیت کے لیے سنجیدہ ہے، تاہم پی ٹی آئی کے رویے اور بیانات نے اعتماد کا مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت مذاکرات کو آگے بڑھانا چاہتی ہے، لیکن پی ٹی آئی کی جانب سے مختلف فورمز پر مختلف بیانات دیے جا رہے ہیں، جس سے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اصل مؤقف کیا ہے۔ ان کے مطابق کبھی ایک زبان میں بات کی جاتی ہے اور کبھی دوسری، جس سے اعتماد قائم کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
بیانات کا تضاد، سنجیدگی پر سوال
وزیر دفاع نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت کا مؤقف الگ ہے جبکہ اسمبلی میں بیٹھے رہنماؤں کی زبان مختلف نظر آتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق ایک ہی مؤقف کے ساتھ سامنے آئیں۔
بیرون ملک بیٹھ کر بیانات پر تنقید
خواجہ آصف نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ کچھ افراد بیرون ملک بیٹھ کر سخت زبان استعمال کر رہے ہیں اور پاکستان کے خلاف بیانات دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس طرزِ عمل سے مذاکراتی عمل متاثر ہوتا ہے اور سب سے پہلے زبان اور رویے میں اعتدال لانا ضروری ہے۔
نیت ہو تو مذاکرات ممکن ہیں
انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی واقعی سنجیدہ ہو تو مذاکرات نہ صرف ہو سکتے ہیں بلکہ ان کے مثبت نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق پی ٹی آئی اپنی سیاسی گنجائش برقرار رکھنے کے لیے پیچھے ہٹنے کی گنجائش رکھنا چاہتی ہے، جس سے شکوک پیدا ہوتے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر کے انتخاب پر بات
خواجہ آصف نے اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک بڑی جماعت کے باوجود کسی اور رہنما کو اپوزیشن لیڈر بنانا ایک اہم سیاسی فیصلہ ہے۔ انہوں نے محمود خان اچکزئی کے لیے احترام کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ سیاسی اختلاف موجود ہے، لیکن ذاتی تعلقات خوشگوار ہیں۔
قیادت کے انداز پر تبصرہ
وزیر دفاع نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف اختلافِ رائے کی اجازت دیتے ہیں اور موجودہ وزیراعظم اپنے وزرا اور کارکنوں کو جو سیاسی اسپیس دیتے ہیں، وہ پاکستان کی سیاست میں ایک مثال ہے۔



