بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کی ایک مشکوک طیارہ حادثے میں ہلاکت کے بعد بھارتی سیاست میں شدید ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ معروف جریدے ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اجیت پوار نے اپنی وفات سے چند روز قبل حکمراں جماعت بھارتیہ جنتہ پارٹی پر کرپشن کے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اجیت پوار نے 15 جنوری کو ایک بیان میں بی جے پی پر الزام لگایا تھا کہ اس جماعت نے عوامی وسائل کا غلط استعمال کیا اور شہری اداروں کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا۔ ان بیانات کے بعد ان کی اچانک ہلاکت کو بعض سیاسی حلقے محض حادثہ قرار دینے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینرجی سمیت کئی اپوزیشن رہنماؤں نے اس واقعے کو ایک “گہری سازش” قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ آف انڈیا سے غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اختلافی آوازوں کو دبانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اجیت پوار ایک بے باک سیاستدان تھے جو کرپشن کے خلاف کھل کر بات کرنے کے لیے جانے جاتے تھے۔ ان کی ہلاکت کے بعد بھارتی سیاست میں شفافیت، احتساب اور جمہوری اقدار پر ایک نئی بحث شروع ہو چکی ہے۔
تاحال حکومتی سطح پر ان الزامات کی تردید کی جا رہی ہے، تاہم عوام اور اپوزیشن کی جانب سے تحقیقات کے مطالبے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔



