پڑوسی ملک میں کورونا سے بھی زیادہ خطرناک نپاہ وائرس کی انٹری، ہائی الرٹ جاری

Facebook
WhatsApp
Twitter
LinkedIn

نئی دہلی (19 جنوری 2026):
بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں ایک مرتبہ پھر نپاہ وائرس کے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد طبی حکام نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے، جبکہ ماہرین اس وائرس کو کورونا سے بھی زیادہ خطرناک قرار دے رہے ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نپاہ وائرس سے متاثرہ دو نرسوں میں سے ایک کی حالت میں بہتری آئی ہے، تاہم دوسری نرس کی حالت بدستور تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ متاثرہ طبی عملہ ضلع پوربا بردھمان میں دورانِ ڈیوٹی وائرس کا شکار ہوا۔

حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال وائرس کے اصل ماخذ اور اس کے پھیلاؤ کے طریقۂ کار کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں، جبکہ مغربی بنگال حکومت نے وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کیلئے سخت گائیڈ لائنز نافذ کر دی ہیں۔

جاری کردہ ہدایات کے مطابق مشتبہ مریضوں کی فوری تشخیص، سخت آئیسولیشن اور طے شدہ طبی پروٹوکول کے تحت علاج کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ صورتحال قابو سے باہر نہ جائے۔

نپاہ وائرس کیا ہے؟

نپاہ وائرس ایک Zoonotic وائرس ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کی پہلی بار شناخت 1998-99 میں ملائیشیا میں ہونے والی ایک وبا کے دوران کی گئی تھی۔ ماہرین کے مطابق چمگادڑ اس وائرس کا بنیادی ذریعہ ہیں۔

انسان اس وائرس سے متاثرہ چمگادڑوں، آلودہ خوراک، متاثرہ جانوروں یا مریض انسان کے قریبی رابطے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق نپاہ وائرس کی شرح اموات 40 سے 75 فیصد تک رہی ہے، جو اسے دنیا کے خطرناک ترین وائرسز میں شامل کرتی ہے۔ اس کی ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، پٹھوں میں درد اور قے شامل ہیں، جو بعد ازاں شدید سانس کی تکلیف اور دماغی سوزش میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔

فی الحال نپاہ وائرس کیلئے کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص دوا دستیاب نہیں، علاج صرف معاون طبی سہولیات کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے