پاسپورٹ نظام میں بڑی تبدیلیاں، وزیر داخلہ کا اعلان

Facebook
WhatsApp
Twitter
LinkedIn

وفاقی حکومت نے پاسپورٹ میں جعلسازی کی روک تھام کے لیے اہم اقدامات اٹھانے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت پاسپورٹ سسٹم میں نئے اور جدید سکیورٹی فیچرز متعارف کروائے جائیں گے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے یہ اعلان چین کے دارالحکومت بیجنگ میں پبلک سکیورٹی پاسپورٹ بیورو کے دورے کے دوران کیا، جہاں انہوں نے پاسپورٹ اور امیگریشن کے جدید نظام کا مشاہدہ کیا۔

وزیر داخلہ کے مطابق پاسپورٹ میں جعلسازی ایک سنگین مسئلہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے، اسی مقصد کے تحت نئے سکیورٹی فیچرز شامل کیے جا رہے ہیں۔

دورے کے دوران بیجنگ پبلک سکیورٹی پاسپورٹ بیورو کے ڈائریکٹر جنرل نے وزیر داخلہ کو پاسپورٹ کے اجراء، تصدیق اور طباعت کے تمام مراحل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

محسن نقوی نے چین کے امیگریشن اور پاسپورٹ نظام کو مؤثر اور منظم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھی بیجنگ ماڈل کی طرز پر ایک تیز رفتار اور جامع امیگریشن نظام تشکیل دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پاسپورٹ اور امیگریشن کے شعبے میں نمایاں اصلاحات کی جا چکی ہیں اور مزید بہتری کے لیے جدید سکیورٹی اقدامات پر کام جاری ہے۔

ادھر سال 2025 کے اختتام پر ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹس اینڈ امیگریشن کی سالانہ کارکردگی رپورٹ بھی جاری کی گئی، جس میں پاسپورٹ اجرا کے حوالے سے نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جدید پرنٹنگ مشینوں کی تنصیب کے باعث پاسپورٹ کے بیک لاگ کا مستقل حل ممکن بنایا گیا اور شہریوں کو بروقت پاسپورٹ کی فراہمی یقینی بنائی گئی۔

اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران مجموعی طور پر 55 لاکھ 72 ہزار سے زائد پاسپورٹ جاری کیے گئے، جو ملکی تاریخ میں ایک سال کے دوران جاری ہونے والے پاسپورٹس کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

محکمہ پاسپورٹ کے مطابق نارمل، ارجنٹ اور فاسٹ ٹریک کیٹیگریز میں بڑی تعداد میں پاسپورٹ جاری ہوئے جبکہ 24 گھنٹے پاسپورٹ دفاتر کھلے رکھنے کی سہولت سے شہریوں کو مزید آسانی فراہم کی گئی۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سال 2025 کے دوران جدید ای پاسپورٹس بنوانے کے رجحان میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جسے مستقبل کے محفوظ سفری نظام کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے