آن لائن یا غیر رجسٹرڈ افراد سے سیکنڈ ہینڈ موبائل فون خریدنا صارفین کے لیے مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ لاہور میں گزشتہ سات برس کے دوران ہزاروں افراد ایسے موبائل فون استعمال کرتے رہے جو دراصل چوری یا دورانِ واردات چھینے گئے تھے۔
پولیس کے موبائل ٹریکنگ یونٹ کی جانب سے مرتب کیے گئے ریکارڈ کے مطابق سال 2018 سے 2025 کے دوران لاہور سے چوری یا چھینے گئے 35 ہزار سے زائد موبائل فونز برآمد کیے گئے، جن کی مجموعی مالیت 8 کروڑ 75 لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف گزشتہ برس ہی ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کے 6 ہزار سے زائد چوری شدہ موبائل فونز برآمد کیے گئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والے موبائل فونز میں سے 80 فیصد صارفین نے بغیر کسی تصدیق کے خرید کر استعمال کیے تھے۔
پولیس کے مطابق 60 فیصد کیسز میں آن لائن موبائل خریدنے والے صارفین کو بعد ازاں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ استعمال ہونے والی ڈیوائسز چوری شدہ ثابت ہوئیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ موبائل فونز اور دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز کی آن لائن خرید و فروخت کرنے والی ویب سائٹس اور غیر رجسٹرڈ ڈیلرز کے خلاف کارروائی کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔
اسی سلسلے میں لاہور کے بڑے تجارتی مراکز کو ایک بار پھر ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ای گیجٹ ایپ کے ذریعے تصدیق کے بغیر کسی بھی موبائل فون کی خرید و فروخت نہ کی جائے، تاکہ شہری قانونی مسائل اور مالی نقصان سے محفوظ رہ سکیں۔



