امریکی جنگی طیاروں کی گرین لینڈ آمد، شمالی دفاعی حکمتِ عملی میں اہم پیش رفت
نیویارک: امریکا کے جنگی طیاروں کی گرین لینڈ میں آمد کا عمل شروع ہو گیا ہے، جسے شمالی خطے میں دفاعی تیاریوں کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی فوجی طیارے گرین لینڈ میں قائم امریکی فضائی اڈے پر تعینات کیے جا رہے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور کینیڈا کے مشترکہ دفاعی ادارے نوراڈ (NORAD) نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ امریکی جنگی طیارے مرحلہ وار گرین لینڈ پہنچ رہے ہیں۔ ادارے کے مطابق اس منصوبے سے متعلق گرین لینڈ کی مقامی حکومت کو بھی پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا۔
ڈنمارک کے ساتھ مکمل ہم آہنگی
نوراڈ کا کہنا ہے کہ امریکی طیاروں کی تعیناتی ڈنمارک کی حکومت کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے تحت کی جا رہی ہے، جبکہ تمام ضروری سفارتی اجازت نامے بھی حاصل کر لیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ اقدام علاقائی سلامتی اور فضائی نگرانی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
تاریخی دفاعی معاہدوں کا پس منظر
واضح رہے کہ گرین لینڈ، ڈنمارک کا ایک خود مختار علاقہ ہے۔ امریکا اور ڈنمارک کے درمیان 1951 میں ایک دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت امریکا نے گرین لینڈ کو ممکنہ بیرونی جارحیت سے محفوظ رکھنے کا عزم کیا تھا۔ بعد ازاں سرد جنگ کے دوران 1958 میں امریکا اور کینیڈا نے مشترکہ دفاعی نظام نوراڈ قائم کیا۔
نوراڈ کا بنیادی مقصد
دفاعی ماہرین کے مطابق نوراڈ کا بنیادی ہدف بیلسٹک میزائلوں کی بروقت نشاندہی اور شمالی فضائی حدود کی نگرانی ہے۔ امریکی جنگی طیاروں کی گرین لینڈ میں تعیناتی کو اسی وسیع دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔



