کراچی: طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں بچوں میں وٹامن ڈی کی کمی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جو ہڈیوں کی کمزوری، دانتوں کی بیماری اور مدافعتی نظام کی خرابی کا سبب بن سکتی ہے۔ اسپتالوں میں آنے والے مریضوں کے اعدادوشمار کے مطابق شہری علاقوں میں رہنے والے بچوں میں یہ کمی زیادہ دیکھی جا رہی ہے کیونکہ وہ زیادہ وقت گھروں میں اور موبائل یا کمپیوٹر اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں۔
وٹامن ڈی کیوں ضروری ہے؟
ماہرین صحت کے مطابق وٹامن ڈی ہڈیوں کی مضبوطی، پٹھوں کی صحت اور قوت مدافعت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کی کمی سے بچوں کو بار بار نزلہ، زکام اور ہڈیوں میں درد کی شکایت ہوتی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بچوں کو روزانہ 20 سے 30 منٹ تک سورج کی روشنی میں رکھا جائے تو قدرتی طور پر وٹامن ڈی کی کمی پوری ہو سکتی ہے۔
والدین کے لیے تجاویز
ڈاکٹرز کا مشورہ ہے کہ والدین بچوں کی خوراک میں دودھ، انڈے، مچھلی اور وٹامن ڈی سپلیمنٹس شامل کریں۔ اگرچہ کچھ والدین سپلیمنٹس دینے سے گھبراتے ہیں لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ معالج کے مشورے سے یہ محفوظ ہیں اور بچوں کی صحت میں بہتری لاتے ہیں۔
ماہرین کی رائے
پروفیسر ڈاکٹر عائشہ، جو کراچی کے ایک بڑے اسپتال میں ماہرِ غذائیت ہیں، کا کہنا ہے کہ "ہمارے پاس آنے والے 10 میں سے 6 بچوں میں وٹامن ڈی کی کمی پائی جاتی ہے۔ یہ ایک الارمنگ صورتحال ہے اور والدین کو فوری طور پر بچوں کے طرزِ زندگی میں تبدیلی لانی چاہیے۔”
عوامی رائے
کراچی کے ایک شہری نے بتایا کہ ان کے بچے کو بار بار ہڈیوں میں درد رہتا تھا لیکن جب ڈاکٹر نے ٹیسٹ کروایا تو وٹامن ڈی کی کمی سامنے آئی۔ علاج کے بعد صورتحال بہتر ہوئی۔
نتیجہ
پاکستان میں بچوں کی صحت بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ والدین اور تعلیمی ادارے مل کر بچوں کو باہر کھیلنے اور دھوپ میں وقت گزارنے کی عادت ڈالیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ ایک بڑی قومی صحت کا بحران بن سکتا ہے۔



