واٹس ایپ شادی انویٹیشن پر کلک کرتے ہی شہری لاکھوں سے محروم

Facebook
WhatsApp
Twitter
LinkedIn

بھارت میں جعلی شادی کا دعوت نامہ، سرکاری ملازم دو لاکھ روپے سے محروم

ممبئی (24 اگست 2025) – بھارت میں سائبر فراڈ کا ایک نیا اور حیران کن واقعہ رپورٹ ہوا ہے، جہاں ایک سرکاری ملازم کو واٹس ایپ کے ذریعے بھیجے گئے جعلی شادی کے دعوت نامے پر کلک کرنے کے بعد تقریباً دو لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔

واقعے کی تفصیل

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ مہاراشٹر کے ضلع ہنگولی میں پیش آیا۔ متاثرہ سرکاری ملازم کو واٹس ایپ پر ایک نامعلوم نمبر سے پیغام موصول ہوا۔ پیغام میں خوش آمدید کے جملے لکھے تھے اور مدعو کیا گیا تھا کہ وہ 30 اگست 2025 کو شادی کی تقریب میں ضرور شریک ہوں۔

اس پیغام کے ساتھ ایک فائل بھی منسلک تھی جو بظاہر ایک پی ڈی ایف (PDF) دستاویز نظر آ رہی تھی، لیکن حقیقت میں یہ ایک اے پی کے فائل (APK – Android Application Package) تھی۔ جیسے ہی ملازم نے اس فائل پر کلک کیا، اس کے موبائل فون میں ایک نقصان دہ سافٹ ویئر انسٹال ہوگیا۔

کس طرح اکاؤنٹ خالی ہوا؟

سائبر مجرمان نے اس فائل کے ذریعے متاثرہ شخص کے موبائل فون اور بینکنگ ایپلیکیشنز تک رسائی حاصل کر لی۔ چند ہی منٹوں میں ملازم کے بینک اکاؤنٹ سے تقریباً 1,90,000 روپے نکال لیے گئے۔

واقعے کے بعد متاثرہ شخص نے فوری طور پر پولیس میں رپورٹ درج کرائی۔ حکام کے مطابق یہ ایک نیا طریقہ واردات ہے جس میں ہیکرز جعلی دعوت نامے یا ایونٹ کارڈز کے ذریعے شہریوں کو جال میں پھنسا رہے ہیں۔

پولیس کی تحقیقات اور وارننگ

اس واقعے کے بعد ہماچل پردیش سائبر پولیس نے عوام کو سختی سے خبردار کیا ہے۔ پولیس نے کہا کہ:

  • نامعلوم نمبروں سے آنے والے پیغامات پر اندھا اعتماد نہ کریں۔

  • مشکوک فائلوں یا لنکس پر کلک نہ کریں، چاہے وہ PDF، JPG یا DOC کی شکل میں دکھائی دیں۔

  • کوئی بھی فائل جو APK ہو اسے کبھی ڈاؤن لوڈ نہ کریں کیونکہ یہ عام طور پر وائرس یا ہیکنگ سافٹ ویئر ہوتے ہیں۔

  • اگر کوئی مشکوک فائل کھل جائے تو فوری طور پر انٹرنیٹ ڈیٹا بند کریں اور اپنے بینک کو اطلاع دیں۔

عوام کے لیے احتیاطی تدابیر

یہ واقعہ ایک بڑی وارننگ ہے کہ سائبر کرائم کے طریقے تیزی سے بدل رہے ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ وہ درج ذیل احتیاطی اقدامات کریں:

  1. نامعلوم نمبروں سے موصول ہونے والے لنکس یا فائلز ہرگز نہ کھولیں۔

  2. اپنے موبائل فون میں اینٹی وائرس یا سکیورٹی ایپ لازمی انسٹال کریں۔

  3. بینک اکاؤنٹس میں ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن (2FA) استعمال کریں۔

  4. کسی مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر بینک اور سائبر پولیس سے رابطہ کریں۔

  5. ہمیشہ سرکاری اور مستند ذرائع سے ہی فائلز یا ایپلیکیشنز ڈاؤن لوڈ کریں۔

نتیجہ

یہ واقعہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ایک عام سا شادی کا دعوت نامہ بھی ہیکرز کے لیے خطرناک ہتھیار بن سکتا ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ زیادہ محتاط رہیں اور اپنی ذاتی معلومات یا بینک اکاؤنٹس کو محفوظ رکھنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے