لاہور میں کوٹ لکھپت جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف کی رہنما یاسمین راشد نے 9 مئی کے مقدمات میں سنائی گئی سزاؤں کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یاسمین راشد نے لاہور ہائیکورٹ میں جی او آر حملہ، کنٹینر جلانے اور پولیس گاڑیاں نذرِ آتش کرنے سے متعلق مقدمات میں اپیلیں دائر کی ہیں۔
اپیلوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ماتحت عدالت نے شواہد اور حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا، جس کے باعث فیصلے انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہیں۔
یاسمین راشد کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ تینوں مقدمات میں سنائی گئی سزائیں کالعدم قرار دی جائیں اور اپیلوں کے حتمی فیصلے تک سزاؤں کو معطل کر کے رہائی کا حکم دیا جائے۔
یاد رہے کہ 20 دسمبر 2025 کو 9 مئی کے جلاؤ گھیراؤ کے دو مقدمات میں کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کو دس، دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
انسداد دہشتگردی عدالت کے فیصلوں کے مطابق گلبرگ میں پولیس گاڑیاں جلانے کے مقدمے میں یاسمین راشد سمیت متعدد رہنماؤں کو سزا سنائی گئی جبکہ بعض ملزمان کو اشتہاری قرار دیا گیا۔
اسی طرح کلمہ چوک پر کنٹینر جلانے کے مقدمے میں بھی پی ٹی آئی کے کئی رہنماؤں اور کارکنوں کو طویل قید کی سزائیں دی گئیں، جبکہ متعدد افراد کو بری کیا گیا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق ان مقدمات میں بعض اہم سیاسی شخصیات کا چالان پیش نہیں کیا گیا تھا، جبکہ مختلف مقدمات میں مجموعی طور پر درجنوں ملزمان کا ٹرائل مکمل ہوا۔
قبل ازیں انسداد دہشتگردی عدالت نے کلب چوک جی او آر پر حملے کے مقدمے میں بھی فیصلے سنائے تھے، جن میں کچھ ملزمان کو سزا جبکہ بعض کو بری کیا گیا تھا۔
یاسمین راشد کی جانب سے دائر اپیلوں پر سماعت کے بعد عدالت آئندہ لائحہ عمل کا تعین کرے گی، جس پر سیاسی اور قانونی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔



