نوجوانوں میں جم کلچر کا بڑھتا ہوا رجحان

Facebook
WhatsApp
Twitter
LinkedIn

لاہور: پاکستان کے بڑے شہروں میں نوجوانوں میں فٹنس جم کلچر تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ پہلے یہ رجحان صرف چند مخصوص طبقوں تک محدود تھا لیکن اب یونیورسٹی طلبہ، دفتری ملازمین اور یہاں تک کہ خواتین بھی بڑی تعداد میں جم کا رخ کر رہی ہیں۔

رجحان کی وجوہات

ماہرین سماجیات کے مطابق نوجوانوں میں سوشل میڈیا نے فٹنس کلچر کو تیزی سے پھیلایا ہے۔ انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر فٹنس انفلوئنسرز کو دیکھ کر بہت سے لڑکے اور لڑکیاں ورزش کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ذہنی دباؤ اور غیر صحت مند خوراک کے باعث نوجوان سمجھنے لگے ہیں کہ باقاعدہ ورزش کے بغیر صحت مند رہنا مشکل ہے۔

مثبت پہلو

اس رجحان سے صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ مل رہا ہے۔ جم جانے والے نوجوان اپنی خوراک پر بھی زیادہ توجہ دینے لگے ہیں۔ زیادہ تر لوگ کولڈ ڈرنکس اور جنک فوڈ سے پرہیز کرنے لگے ہیں اور پانی، پروٹین اور پھلوں کو اپنی ڈائٹ میں شامل کر رہے ہیں۔

منفی پہلو

اگرچہ یہ تبدیلی خوش آئند ہے لیکن کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر سائنسی ڈائٹ پلان اور ضرورت سے زیادہ ورزش نوجوانوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ اکثر نوجوان یوٹیوب یا سوشل میڈیا پر موجود غیر مستند ٹرینرز کی ہدایات پر چلتے ہیں، جس سے ان کی صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ماہرین کی رائے

فٹنس ٹرینر عادل احمد کے مطابق: "ورزش بہترین ہے لیکن اس کا درست طریقہ اپنانا ضروری ہے۔ ہر شخص کو اپنی عمر، وزن اور صحت کے مطابق ورزش کرنی چاہیے۔ اگر جم کلچر کو پروفیشنل ٹرینرز اور متوازن ڈائٹ کے ساتھ اپنایا جائے تو یہ معاشرے کے لیے بہت مثبت تبدیلی ہے۔”

عوامی رائے

لاہور کے ایک نوجوان نے بتایا کہ وہ روزانہ شام کو جم جاتے ہیں اور اس سے نہ صرف ان کی فٹنس بہتر ہوئی ہے بلکہ پڑھائی اور روزمرہ کاموں میں بھی توانائی محسوس ہوتی ہے۔

نتیجہ

پاکستان میں بڑھتا ہوا جم کلچر مثبت سمت کی نشاندہی کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ حکومت اور تعلیمی اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ فٹنس اور غذائیت کے حوالے سے آگاہی مہم چلائیں تاکہ نوجوان صحت مند اور متوازن طرزِ زندگی اپنا سکیں۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے