دو دوستوں کی زندگی بدل گئی کھیت سے 15 قیراط کا ہیرا مل گیا

Facebook
WhatsApp
Twitter
LinkedIn

بھارت میں کھیت سے 15 قیراط کا ہیرا برآمد، دو دوستوں کی زندگی بدل گئی
مدھیہ پردیش کے ضلع پنا میں نایاب دریافت، حکومتی نیلامی کے ذریعے فروخت کا فیصلہ

پنا، بھارت (دسمبر 2025):
بھارت کے صوبے مدھیہ پردیش کے ضلع پنا میں دو بچپن کے دوستوں کو کھیت میں کام کے دوران 15.3 قیراط کا قیمتی ہیرا مل گیا، جس نے ان کی معاشی حالت یکسر بدل دی اور ایک بار پھر پنا کو بھارت کے معروف ڈائمنڈ بیلٹ کے طور پر نمایاں کر دیا۔

ذرائع کے مطابق 24 سالہ ستیش کھاتک اور 23 سالہ ساجد محمد نے سرکاری اجازت کے تحت ایک کھیت لیز پر حاصل کیا تھا جہاں وہ روزانہ معمولی کھدائی اور زمین کی صفائی کا کام کرتے تھے۔ دورانِ کام انہیں ایک چمکدار پتھر ملا جسے بعد ازاں ضلعی ڈائمنڈ آفس میں جمع کروا دیا گیا۔

پنا ڈائمنڈ آفس کی جانچ کے بعد تصدیق کی گئی کہ برآمد ہونے والا پتھر اصلی ہیرا ہے جس کا وزن 15.3 قیراط ہے۔ حکام کے مطابق اس ہیرے کی مارکیٹ ویلیو 50 سے 60 لاکھ بھارتی روپے کے درمیان لگائی گئی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ روپے بنتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ہیرا سرکاری تحویل میں رکھا جائے گا اور حکومتی نگرانی میں ہونے والی نیلامی کے ذریعے فروخت کیا جائے گا، جس میں قواعد کے مطابق 88 فیصد رقم دریافت کرنے والوں کو جبکہ 12 فیصد حکومت کو حاصل ہوگی۔ ضلع پنا میں ہر تین ماہ بعد اس نوعیت کی نیلامی کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

ستیش کھاتک اور ساجد محمد دونوں کا تعلق غریب اور محنت کش خاندانوں سے ہے۔ ایک پیشے کے اعتبار سے قصائی ہے جبکہ دوسرا پھل فروخت کر کے روزگار کماتا ہے۔ دونوں دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ اس رقم کو فضول خرچی کے بجائے اپنی گھریلو ذمہ داریوں کے لیے استعمال کریں گے، جن میں ان کی اولین ترجیح بہنوں کی شادی ہے۔

واضح رہے کہ ضلع پنا کو بھارت کے اہم ڈائمنڈ بیلٹس میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں ماضی میں بھی قیمتی ہیروں کی دریافت ہو چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہاں زمین کی ساخت ہیرے کی موجودگی کے لیے موزوں ہے، اسی لیے حکومت لیز سسٹم کے تحت شہریوں کو محدود پیمانے پر کھدائی کی اجازت دیتی ہے۔

یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ محنت، دیانت داری اور درست قانونی طریقہ کار کے ذریعے غیر متوقع مواقع انسان کی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے