خیرپور : مبینہ طور پر زہریلا دودھ پینے سے 22 بچے بے ہوش ہوگئے ، اسپتال لائے گئے بچوں میں سے 8 کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سندھ کے ضلع خیرپور میں ایک افسوسناک اور لرزہ خیز واقعہ پیش آیا، جہاں ایک ہی دکان سے خریدا گیا مبینہ طور پر زہریلا دودھ پینے سے 22 بچے اور شہری بے ہوش ہو گئے۔
پولیس حکام نے بتایا کہ متاثرہ شہریوں کا تعلق خیرپور کے علاقوں شاہی بازار، بچل کالونی اور کچی آبادی سے ہے، تمام متاثرین نے علاقے کی ایک ہی دکان سے دودھ خریدا تھا، جسے پینے کے کچھ ہی دیر بعد بچوں اور دیگر افراد کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اور وہ بے ہوش ہو گئے۔
ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ زیرِ علاج مریضوں میں سے 8 بچوں اور افراد کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جاتی ہے، جنہیں بچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ کو ہنگامی اقدامات کی ہدایت جاری کر دی اور کمشنر سکھر، ڈی آئی جی خیرپور اور ضلعی انتظامیہ سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ کو دی جانے والی ابتدائی بریفنگ میں بتایا گیا کہ شاہی بازار اور گردونواح کے متاثرہ شہریوں کو ہسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
اسپتال انتظامیہ کو حکم دیا گیا ہے کہ متاثرہ بچوں اور شہریوں کو علاج معالجے کی ہر ممکن اور بہترین سہولیات فوری فراہم کی جائیں ساتھ ہی زہریلے اور ملاوٹ شدہ دودھ کی فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے ہدایت کی واقعے کی مکمل اور شفاف انکوائری کر کے اس جرم کے اصل ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، "عوام کی جان و مال سے کھیلنے والے منافع خوروں اور ملوث عناصر کے ساتھ کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔



