لاہور (5 جولائی 2026): پاکستان کے اسٹار بلے باز بابر اعظم کو دوبارہ کیوں ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے اس کے لیے بیٹر نے کیا شرائط رکھیں۔
پی سی بی کی سلیکشن کمیٹی نے دورہ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے لیے قومی ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان کیا ہے۔ شان مسعود سے قیادت واپس لے کر بابر اعظم کو دوسری بار طویل دورانیے کی کرکٹ میں کپتانی سونپی گئی ہے۔ یہ فیصلہ کیوں کیا گیا، اس کی بڑی وجہ سامنے آ گئی ہے۔
قومی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ عاقب جاوید نے بتایا کہ شان مسعود کی بطور کپتان مسلسل ناکامی پر جب نئی قیادت کے لیے مشاورت کی گئی تو صرف بابر اعظم کے نام پر ہی اتفاق ہو سکا، اس لیے انہیں ٹیسٹ ٹیم کی کپتان سونپی گئی ہے۔
عاقب جاوید نے واضح کیا کہ بابر اعظم نے ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سنبھالنے کے لیے کوئی شرائط نہیں رکھی ہیں۔ امید ہے کہ کپتان کی تبدیلی سے قومی کرکٹ ٹیم پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ کچھ عرصے میں پاکستان کرکٹ ٹیم کچھ میچز بہت قریب جا کر ہاری۔ بطور کپتان شان مسعود کی انفرادی کارکردگی بہتر رہی مگر ٹیم کی کارکردگی متاثر ہوئی۔ سابقہ کارکردگی کا جائزہ لے کر کپتان تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔
عاقب جاوید نے یہ بھی کہا کہ قومی ٹیم کے لیے دو طرفہ سیریز میں کامیابی ہمیشہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ کپتان اور سلیکشن کمیٹی کو تسلسل سے مواقع دینے کے لیے اچھے نتائج آنا ضروری ہیں۔ بنگلہ دیش ٹور کے بعد محسوس ہوا کہ ہماری فاسٹ باؤلنگ میں اسپیڈ کی ضرورت ہے۔ بنگلہ دیش میں پچز مختلف تھیں، انگلینڈ میں پچز پر گھاس بنگلہ دیش سے کم ہو گی۔
سابق کپتان اور ممبر سلیکشن کمیٹی مصبباح الحق نے کہا کہ بابر اعظم کی تینوں فارمیٹس کی کرکٹ میں اہمیت ہے۔ انہیں ٹی ٹوینٹی کی کارکردگی پر ٹیسٹ ٹیم کا کپتان نہیں بنایا گیا۔
مصباح الحق کا کہنا تھا کہ ون ڈے اور ٹی ٹوینٹی میں بابر کی کارکردگی شاندار، ٹیسٹ میں بہتری کی ضرورت ہے۔ کپتان کے لیے بطور لیڈر اور کھلاڑی دونوں شعبوں میں کارکردگی دکھانا ہوتی ہے۔ نسیم شاہ ڈومیسٹک کرکٹ کھیلیں گے، جہاں ضرورت ہوگی ان کو ٹیم میں لیں گے۔
واضح رہے کہ بابر اعظم نے 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی بدترین کارکردگی کے بعد پاکستان ٹیم کے تمام فارمیٹ کی کپتانی چھوڑنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد شان مسعود کو ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا تھا۔



