تنخواہ دار طبقے نے ایکسپورٹرز، ریئل اسٹیٹ اور دکانداروں کے مجموعی ٹیکس سے بھی زیادہ انکم ٹیکس ادا کر دیا

Facebook
WhatsApp
Twitter
LinkedIn

اسلام آباد : تنخواہ دار طبقے نے ایکسپورٹرز، ریئل اسٹیٹ اور دکانداروں کے مجموعی ٹیکس سے بھی زیادہ انکم ٹیکس ادا کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 30 جون کو ختم ہونے والے گزشتہ مالی سال کے ٹیکس وصولیوں کے حیران کن اعداد و شمار جاری کر دیے۔

ایف بی آر حکام نے بتایا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ انکم ٹیکس ادا کر کے تمام بڑے کاروباری شعبوں پر بازی لے گیا ہے اور سرفہرست رہا۔

ایف بی آر نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران ملک بھر کے تنخواہ دار طبقے نے ریکارڈ 632 ارب روپے کا انکم ٹیکس جمع کرایا۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ تنخواہ دار طبقے کا یہ انکم ٹیکس، ملک کے تین بڑے شعبوں (ایکسپورٹرز، ریئل اسٹیٹ اور دکانداروں) کے مجموعی طور پر جمع کیے گئے 435 ارب روپے کے ٹیکس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔

گزشتہ مالی سال کے دوران دیگر بڑے شعبوں رئیل اسٹیٹ فروخت کنندگان سے مجموعی طور پر 191 ارب روپے کا انکم ٹیکس ملا، ملک بھر کے بڑے ایکسپورٹرز سے صرف 174 ارب روپے کا انکم ٹیکس وصول ہوا جبکہ دکانداروں اور ریٹیل سیکٹر سے محض 70 ارب روپے کا ٹیکس جمع کیا جا سکا۔

ایف بی آر حکام نے کہا کہ 30 جون کو ختم ہونے والے اس مالی سال کے اختتام پر قومی خزانے میں مجموعی طور پر 13,010 ارب (13 ٹریلین) روپے کا ٹیکس جمع ہوا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کے ان اعداد و شمار سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ملکی معیشت کا سب سے بڑا بوجھ فکسڈ انکم والے تنخواہ دار طبقے نے اٹھایا ہوا ہے، جبکہ بڑے کاروباری اور تجارتی شعبے اب بھی اپنی آمدن کے تناسب سے بہت کم ٹیکس ادا کر رہے ہیں

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

🚫

Please Disable Your Ad Blocker

We noticed you're using an ad blocker. Our site relies on ads to keep our content free. Please disable your ad blocker or add this site to your allow list, then refresh the page to continue.