اسلام آباد(8 جولائی 2026): ملک کی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بیلنس آف پیمنٹ کا دباؤ کم کرنے اور بیرونی ادائیگیوں کے مسائل حل کرنے کے لیے انتہائی اہم مذاکرات جاری ہیں۔
وزیراعظم آفس کے ذرائع کے مطابق پاکستانی معاشی ٹیم اور سعودی حکام کے درمیان ہونے والی ان بیٹھکوں میں سعودی عرب کی جانب سے اسٹیٹ بینک میں رکھے گئے 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس کو براہِ راست سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کے لیے بات چیت کی جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ ہی موخر ادائیگیوں پر ادھار تیل کی سہولت فراہم کرنے کے لیے بھی پاکستان کی درخواست پر دوبارہ مذاکرات ہوں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ حکومت کی اولین کوشش ہے کہ ان ڈپازٹس کو مختلف منصوبوں میں سعودی سرمایہ کاروں کے تعاون سے انویسٹمنٹ میں بدلا جائے تاکہ ملک میں معاشی سرگرمیاں تیز ہوں۔
مذاکرات کے دوران سعودی حکام کی جانب سے پاکستانی معاشی ٹیم کے ساتھ ایک طویل المدتی معاشی فریم ورک بھی شیئر کیا گیا ہے۔
سعودی پلان کے مطابق پاکستان میں بیلنس آف پیمنٹ (ادائیگیوں کے توازن) کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے سال 2035 تک کا ایک جامع عملدرآمد پلان دیا گیا ہے۔
اس پلان پر عملدرآمد سے نہ صرف ادائیگیوں کے دباؤ پر قابو پایا جا سکے گا بلکہ ملکی برآمدات کو تقریباً 100 ارب ڈالر تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔ سعودی حکام نے اس بات چیت میں پاکستان میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات، پائیدار اقتصادی ترقی اور معاشی استحکام کو یقینی بنانے پر خصوصی زور دیا ہے۔



