نئی دہلی : بھارتی وزیراعظم مودی کے ایرانی سپریم لیڈرکی آخری رسومات میں جانے سےانکار کے بعد بھارت کے اندرونی اور عالمی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی۔
تفصیلات کے مطابق ایرانی سپریم لیڈرکی آخری رسومات میں عدم شمولیت سے اسرائیل اور بی جے پی گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ہوگیا، ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی عدم شرکت کے بعد بھارت کے اندرونی اور عالمی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی۔
سیاسی تجزیہ کاروں اور دفاعی ماہرین کی جانب سے مودی حکومت کی اس پالیسی کو "کھوکھلی اور دوغلی سفارتکاری” قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا نے بتایا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجے جانے کے باوجود وزیراعظم نریندر مودی نے تہران جانے سے انکار کر دیا اور بھارت نے اس عظیم الشان جنازے میں شرکت کے لیے ایک جونیئر سطح کا وفد بھیجا، جس کی قیادت وزیرِ مملکت برائے خارجہ پبیترا مارگریٹا اور ریاست بہار کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ر) سید عطا حسنین کر رہے ہیں۔
بھارتی تجزیہ کار پروین شانے کا کہنا ہے کہ مودی نے امریکا اور اسرائیل کو ناراض ہونے سے بچانے کے لیے ایران جانے سے گریز کیا۔



