ہیمبرگ : مسوڑھوں کی بیماری کو صرف منہ تک محدود مسئلہ سمجھنے والوں کے لیے نئی طبی تحقیق نے خطرناک انکشاف کیا ہے۔
جرمنی میں ہونے والی ایک تحقیق مسوڑھوں کی بیماری اور گردوں کے افعال میں کمی کے درمیان تعلق سامنے آگیا، ماہرین نے خبردار کردیا۔
تحقیق کے مطابق مسوڑھوں کی شدید بیماری (پیریڈونٹائٹس) نہ صرف دانتوں اور مسوڑھوں کو متاثر کرتی ہے بلکہ گردوں کے افعال میں خرابی اور دائمی گردے کی بیماری (سی کے ڈی)کے ابتدائی مراحل سے بھی تعلق رکھتی ہے۔
یونیورسٹی میڈیکل سینٹر ہیمبرگ ایپینڈورف کے محققین ڈاکٹر کرسچن شمٹ لاوبر اور پروفیسر ڈاکٹر غزل عربی کی سربراہی میں کی گئی اس تحقیق میں 6 ہزار 179 افراد کے طبی اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔
شرکاء کے مسوڑھوں کا تفصیلی معائنہ کیا گیا، جبکہ گردوں کی صحت جانچنے کے لیے ای جی ایف آر اور یو اے سی آر سمیت مختلف بائیو مارکرز استعمال کیے گئے۔ اس کے علاوہ جسم میں سوزش کی سطح معلوم کرنے کے لیے ایچ ایس سی آر پی اور آئی ایل-6 کی بھی پیمائش کی گئی۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن افراد میں مسوڑھوں کی بیماری شدید تھی، ان میں گردوں کے افعال متاثر ہونے اور پیشاب میں البیومین کی مقدار بڑھنے کے امکانات نمایاں طور پر زیادہ تھے۔ نتائج کے مطابق گردوں کے صحت مند افراد میں شدید پیریڈونٹائٹس کی شرح تقریباً 14 فیصد تھی، جو گردوں کی خرابی کے شکار افراد میں بڑھ کر 36 فیصد تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق پیریڈونٹائٹس کے باعث جسم میں پیدا ہونے والی طویل مدتی سوزش خون کی نالیوں کے ذریعے گردوں تک پہنچ سکتی ہے، جس سے گردوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق میں یہ تعلق عمر، جنس، ذیابیطس اور تمباکو نوشی جیسے عوامل کو مدنظر رکھنے کے بعد بھی برقرار رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صرف مشترکہ خطرے کے عوامل کا نتیجہ نہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جسمانی سوزش اس تعلق میں اہم کردار ادا کرتی ہے، تاہم جراثیم کا خون میں پھیلاؤ، خون کی نالیوں کی خرابی، آکسیڈیٹیو تناؤ اور میٹابولک تبدیلیاں بھی گردوں کے نقصان میں حصہ ڈال سکتی ہیں۔



