اسلام آباد (4 جولائی 2026): سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قید تنہائی سے متعلق کیس میں عدالتی حکم جاری کر دیا گیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قید تنہائی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے تفصیلی رپورٹ اور جیل ریکارڈ طلب کر لیا۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے کیس میں اہم حکم جاری کرتے ہوئے رپورٹ طلب کی، انہوں نے سوال کیا کہ قیدی تنہائی میں رکھا گیا تو کیوں، کس قانون کے تحت، کتنی دیر کیلیے، اور کیا یہ سزا ہے؟ اس سے متعلق درخواستیں قابل سماعت ہیں یا نہیں، رپورٹس آنے کے بعد فیصلہ کریں گے۔
عدالت نے حکم دیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جیل میں کیسی حالت ہے، اس حوالے سے سپرنٹنڈنٹ رپورٹ جمع کروائیں، ان کو کیا سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں یہ بھی رپورٹ دیں، قید تنہائی کے الزامات میں کتنی صداقت ہے، تفصیلات جمع کروائیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ قید تنہائی سے متعلق تفصیلی رپورٹ اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ جمع کروائیں، کس قانون کے تحت کتنے اور عرصے کیلیے کن حالات میں قید تنہائی میں رکھا گیا رپورٹ دیں، جیل و رجسٹر ریکارڈ، متعلقہ دستاویز 2 قیدیوں کے حوالے سے ساتھ لے کر آئندہ سماعت پر آئیں، آئی جی جیل خانہ جات سپرنٹنڈنٹ جیل لیول کا افسر آئندہ سماعت پر پیش ہوں، ایسا افسر عدالت پیش ہو جس کو کیس کے حالات و واقعات سے متعلق آگاہی ہو۔
عدالت نے 6 اگست کیلیے تمام فریقین سے رپورٹس طلب کر لیں۔



